جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایک اور اہم ترین سرکاری ادارہ ڈوب گیا،روزانہ ڈیڑھ کروڑ روپے کا خسارہ، حکومت نے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا،عوام ششدر

datetime 4  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے 4 ہزار سے زائد اسٹور خسارے میں ہونے کا انکشاف ہواہے جبکہ یومیہ خسارہ 1 کروڑ 40 لاکھ روپے سے تجاوز کر گیاہے،کارپوریشن نے مالی طور پر ناقابل برداشت اسٹورز کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔دستاویز کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن مالی خسارے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہو چکی ہے، ملک بھر میں 5 ہزار327 یوٹیلٹی اسٹورزہیں جن میں سے 4 ہزار 470 خسارے میں جا رہے ہیں،

اسلام آباد میں 494، ایبٹ آباد 428، پشاور 791، کوئٹہ 265، سرگودھا 607، سکھر 280، کراچی 364، لاہور 508 اور ملتان میں 679 یوٹیلٹی اسٹورز خسارے میں چل رہے ہیں۔یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو سیل کی مد میں 2012-13کے بعد شدید خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے، سال 2012-13میں یوایس سی کی فروخت94ارب روپے تھی اور اس سال کارپوریشن کو 1.4ارب روپے کا فائدہ ہوا، سال 2013-14 میں فروخت 87.3 ارب رہی اور کارپوریشن کو 20کروڑ روپے کا خسارہ ہوا، 2014-15 میں فروخت 59.01 ارب اور خسارہ 2.2ارب روپے ہوا، 2015-16 میں فروخت 50.37 ارب اور خسارہ 3.07 ارب روپے ہو گیا، سال 2016-17میں کارپوریشن کی فروخت 59 ارب روپے اور خسارہ 3.85ارب روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، رواں مالی سال یہ خسارہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔دستاویز کے مطابق اس وقت 4 ہزار سے زائد اسٹورز خسارے میں چل رہے ہیں جس کے باعث آپریشنل اخراجات کی معقولیت اور مالی طور پر ناقابل برداشت اسٹورز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے کام شرو ع کر دیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کا مالی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، یومیہ خسارہ1کروڑ40لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا ہے، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کارپوریشن کو 1ارب 37کروڑ روپے سے زائد کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔  ذرائع کے مطابق خسارے کی وجہ سے کارپوریشن نے بڑے پیمانے پر ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو نکالنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں جبکہ بجٹ میں بڑھنے والی تنخواہوں کا اطلاق بھی تاحال ملازمین پر نہیں کیا جا سکا، ملک بھر کے یوٹیلٹی اسٹورز پر اسٹاک کی کمی سمیت کارپوریشن کواشیا کی خریداری کی مد میں ادائیگیوں میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…