جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ہمارے جوہری اثاثے بالکل محفوظ ہیں اورانہیں کوئی خطرہ نہیں ٗ ترجمان پاک فوج

datetime 23  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ ہمارے جوہری اثاثے بالکل محفوظ ہیں اور انہیں کوئی خطرہ نہیں۔ایک انٹرویومیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق امریکا کے شکوک و شبہات کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمارے جوہری اثاثے بالکل محفوظ ہیں اور انہیں کوئی خطرہ نہیں۔امریکا کی جانب سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور اس کی کامیابیوں کو تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا بہت بڑا تعلق ماحول کے ساتھ ہے ٗ

پاکستان نے اپنی سرحدی حدود میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں اور انہیں شکست دی، افغانستان کی اپنی تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ ہے جن کا جب غیر ملکی افواج سامنا کرتی ہیں تو انہیں کئی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے اس لیے وہاں جنگ لڑنا اتنا آسان نہیں، امریکا نے اس حوالے سے پاکستان سے تعاون مانگا جو ہم نے کیا تاہم افغان جنگ کے فیصلہ کن مرحلے میں امریکی، اس کی اتحادی افواج اور افغان فورسز نے لڑنا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ ہم نے اپنے حصے کا بہت کام کرلیا اب افغانستان کی باری ہے۔انہوںنے کہاکہ دہشتگردوں کی نقل و حمل روکنے کے لیے افغانستان کو بھی ایسا ہی کرنے کی ضرورت ہے جبکہ محفوظ بارڈر کے لیے انٹیلی جنسی شیئرنگ کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور افغانستان میں منشیات کے کاروبار کو روکنا بھی بہت ضروری ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’ہم افغانستان میں امریکا کی جنگ نہیں لڑ سکتے ٗ ہم امریکا سے ہر طرح کا دفاعی تعاون کرنے کو تیار ہیں اور کر بھی رہے ہیں لیکن بلیم گیم سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان امریکی امداد کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا اور نہ ہی برائے فروخت ہے، جبکہ حکومت اور مسلح افواج کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمیں امریکا کی امداد نہیں بلکہ اعتماد اور بھروسہ چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…