جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی،سرکاری ٹی وی کاڈائریکٹراور ان کی اہلیہ گھر میں پراسرارطورپر ہلاک،افسوسناک انکشافات

datetime 19  دسمبر‬‮  2017 |

راولپنڈی (آئی این پی)راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد کے علاقہ داتا گنج بخش روڈ پر سرکاری ٹی وی میں بطور ڈائریکٹر آئی ٹی کام کرنے والے 55 سالہ فخر حمید اور ان کی 50 سالہ اہلیہ حمیرہ حمید گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔منگل کو ایک نجی ٹی وی کے مطابق سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) راول ڈویژن بہرام خان نے بتایا کہ دونوں میاں بیوی کی 7 سالہ بیٹی نے پولیس کو بیان دیا کہ جب وہ اسکول سے واپس آئی تو

اس کے والدین کی لاشیں گھر کے بیت الخلا میں پڑی تھیں۔ایس پی نے بتایا کہ فخر حمید کے جسم پر کوئی کپڑا نہ تھا اور ان کے سر پر زخم موجود تھے جبکہ ان کی اہلیہ کے جسم پر زخم کا کوئی نشان نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک دونوں کی موت کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں تاہم لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں اور موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی سامنے آسے گی۔اہل علاقہ اور پڑوسیوں کے اس حوالے سے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں اور پولیس جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔اسٹیشن ہاس افسر (ایس ایچ او) صادق آباد چوہدری ذوالفقار نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ فخر حمید واش روم میں نہانے گئے تو پاں پھسلنے کی وجہ سے وہ گر گئے جس سے ان کے سر پر زخم آیا، خاوند کے گرنے کی آواز پر جب حمیرہ حمید واش روم گئیں تو وہ خاوند کے سر سے خون کا صدمہ برداشت نہ کر سکیں کیونکہ وہ دل اور کینسر کی مریضہ تھیں۔ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ حمیرہ حمید کو دل کا دورہ پڑا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں میاں بیوی کے دو ملازم بھی گھر پر موجود تھے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…