ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ہندؤں کے مندرمیں رام شیوا اور ہنومان کی مورتیاں حکومت لگائے گی ،چیف جسٹس ثاقب نثار کا ازخودنوٹس،بڑا حکم جاری کردیا

datetime 12  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ہندؤں کے مقدس مقامات میں سے ایک کٹاس راج میں رام شیوا اور ہنومان کی مورتیاں نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ اس ضمن میں کیوں لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے ٗمندر میں پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر سے ہندو برادری اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے آتی ہے لیکن جب اس مندر میں مورتیاں نہیں ہوں گی تو وہ اقلیتی برادری کے بارے میں پاکستان سے کیا تاثر لے کر جائیں گے۔

منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کٹاس راج کی حالت زار کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کی۔پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے یہ از خود نوٹس چکوال میں سیمنٹ کی فیکٹریوں کی وجہ سے کٹاس راج میں موجود پانی کا تالاب خشک ہونے سے متعلق میڈیا پر آنے والی خبروں پر کیا تھا۔سماعت کے دوران عدالت کے استفسار پر پنجاب حکومت کے نمائندے نے بتایا کہ اس علاقے میں سیمنٹ کی چار فیکٹریاں موجود ہیں جن میں بیسٹ وے سیمنٹ، غریب وال اور ڈی جی خان سیمنٹ فیکٹری شامل ہے۔محکمہ اوقاف کے وکیل نے کٹاس راج مندر کی حالت خراب کرنے کی ذمہ داری پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں محکمہ اوقاف کے چیئرمین آصف ہاشمی پر ڈال دی ٗانھوں نے الزام عائد کیا کہ آصف ہاشمی نے اپنے دور میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی کی ۔بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ملزم کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا جس پر محکمہ اوقاف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری خارجہ کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔عدالت نے کٹاس راج مندر سے متعلق اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ماتحت عدالتوں کو احکامات جاری کیے چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیے کوئی بھی عدالت اس بارے میں دائر درخواست پر کوئی کارروائی نہ کرے۔عدالت نے اس از خود نوٹس کی سماعت بدھ کے روز تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…