ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر گردش کرنیوالی نظم’’شکوہ‘‘ علامہ اقبال کی آواز میں نہیں ، تو پھریہ آوازکس کی ہے، پوتے نے وضاحت کردی

datetime 11  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (سی پی پی )سوشل میڈیا ایک ایسی دنیا ہے، جہاں ہر وقت کہیں نہ کہیں سے کوئی پیغام، آڈیو یا ویڈیو شیئر ہورہی ہوتی ہے اور دعوی سے کہا جاسکتا ہے کہ ان میں سے بیشتر جعلی ہوتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ آج کل شاعر مشرق علامہ اقبال کی نظم ‘شکوہ’ کی آڈیو ریکارڈنگ کیساتھ بھی ہو رہا ہے۔اِن دنوں سوشل میڈیا پر شاعر مشرق

علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم ‘شکوہ’ کی آڈیو ریکارڈنگ گردش کررہی ہے، جس کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ علامہ اقبال کی آواز میں ہے۔یہ کلپ اس دعوے کے ساتھ پھیلائی گئی کہ پہلی بار علامہ اقبال کی کوئی آڈیو رکارڈنگ سامنے آئی ہے۔بس پھر کیا تھا جس کسی نے سنا، اس آڈیو کلپ کو ‘قومی فریضہ’ سمجھ کر آگے بڑھا دیا۔آڈیو کلپ کے وائرل ہونے کے بعد علامہ اقبال کے پوتے منیب اقبال نے لوگوں کی اس سادگی پر اپنا سر پکڑ لیا اور وضاحت جاری کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ آڈیو کلپ علامہ اقبال کی آواز میں نہیں ہے۔منیب اقبال کا کہنا تھا کہ ساری دنیا سے لوگ مجھے میسجز کر رہے ہیں، لیکن یہ علامہ اقبال کی آڈیو نہیں ہے۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ جعلی چیزیں شیئر کرنے کے بجائے لوگوں کو صحیح طرح سے اقبال کے فرمودات پر عمل کرنا چاہیے۔یہاں سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس کلپ میں سنائی دینے والی آواز کس کی ہے؟ تو یہاں بتاتے چلیں کہ جن صاحب کی ریکارڈنگ کو علامہ اقبال کی آواز کہہ کر پھیلایا گیا، وہ دراصل شکاگو میں مقیم جمال ناصر ہیں اور اپنا پسندیدہ کلام ترنم کے ساتھ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنا ان کا پرانا شوق ہے۔جمال ناصر کا کہنا تھاکہ میں اس سے پہلے بھی اقبال کی نظمیں ترنم میں گاکر اپ لوڈ کرچکا ہوں، لیکن حال ہی میں کسی نے ’’شکوہ‘‘کو اس جھوٹ کے ساتھ انٹرنیٹ پر پھیلایا کہ یہ علاقہ اقبال کی آواز ہے اور پھر وہ وائرل ہوگئی۔علامہ اقبال کی جعلی آڈیو کلپ کا

وائرل ہونا تو محض ایک واقعہ ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے دراصل افواہ سازی اور جعلی خبروں کی فیکٹریاں کھل گئی ہیں اور ان سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر پیغام کی تصدیق ضرور کی جائے اور بغیر چھان بین کیے کسی بھی پیغام کو آگے نہ پہنچایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…