جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک کھوکھا بھی الاٹ کرنے کا اختیار نہیں اور یہاں جس کا دل چاہتا ہے زمینیں الاٹ کردیتا ہے‘‘ چیف جسٹس سائیں سرکار پر برس پڑے، کھری کھری سنا دیں

datetime 8  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ کراچی آکر احساس ہوا کہ سندھ میں کوئی ڈسپلن نہیں اور لگتا ہے کہ یہاں مزید 6 ماہ بیٹھ کر مقدمات سننے ہوں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق سپریم

کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لیڈیز کلب لاڑکانہ کی اراضی کو کمرشل مقاصد کے لئے تبدیل کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک کھوکھا بھی الاٹ کرنے کا اختیار نہیں اور یہاں جس کا دل چاہتا ہے زمینیں الاٹ کردیتا ہے ٗکراچی آکر احساس ہوا کہ سندھ میں کوئی ڈسپلن نہیں ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ لاڑکانہ کے جناح گارڈن کی کل اراضی 20 ہزار اسکوائر یارڈ ہے اور 3 ہزار اسکوائر یارڈ پر لیڈیز کلب لاڑکانہ قائم ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ جناح گارڈن لاڑکانہ میں نیشنل ہیلتھ سینٹر، لاڑکانہ پریس کلب اور سرکاری اسکول بھی قائم ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ میونسپل کمیٹی لاڑکانہ نے دکانیں بنا کر کرائے پر دے رکھی ہیں جبکہ میونسپل کمیٹی کو یہ اراضی الاٹمنٹ کرنے کا اختیار تھا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب پارکس صرف عوامی ملکیت ہوتے ہیں اور حکومت چاہے بھی تو پارک پر کچھ اور نہیں بنا سکتی۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو ہدایت کی کہ جائیں اور پارک کو اصل حالت میں بحال کرائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…