جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلزپارٹی حکومت کے ساتھ تعاون پر رضامند، شرائط پیش کردیں، مطالبات کی تفصیلات جاری

datetime 7  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے مردم شماری نتائج کے 5 فیصد بلاکس میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کے طریقہ کار کا مطالبہ پورا ہونے تک حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیا۔پیپلز پارٹی کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر تاج حیدر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی چاند نہیں مانگ رہے ٗہمارے مطالبات واضح ہیں جس کا مقصد شفافیت کے عمل کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے

تو پیپلزپارٹی 11 دسمبر کو ہونے والے سینیٹ اجلاس میں آئینی ترمیمی بل کو منظور نہیں ہونے دے گی۔سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ 2017 میں مردم شماری میں استعمال ہونے والے ناقص طریقہ کار کو 5 فیصد مخصوص بلاک کے پوسٹ شمار سروے ( پی ای ایس) میں استعمال کیا گیا تو نتائج ایک بار بھی متنازع ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں حقوق کا دعویٰ کرنے والے طریقہ کار کا استعمال کیا گیا اور اس کے تحت ہی لوگوں کا اندراج ان کے رہائشی صوبے میں نہیں بلکہ آبائی صوبے میں کیا گیا۔اس کے علاوہ انہوں نے کہاکہ مردم شماری کے دوران غیر قانونی طور پر رہنے والوں کو بھی شمار نہیں کیا گیا جو صوبوں پر ایک بڑا بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق رہائشیوں کو موجودہ رہائش کی جگہ پر شمار کیا جاتا ہے اور یہی آبادی کو صحیح تعداد میں ریکارڈ کرنے کا واحد طریقہ کار ہے اور اسے 5 فیصد بلاکس کے پی ایس سی میں استعمال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کو ریکارڈ کرنے اور اسے آن لائن کنٹرولنگ دفاتر بھیجنے کے لیے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ٹیمپلیٹ استعمال کیا جائے ٗ ان کا کہنا تھا کہ یہ قابل واپسی ٹیمپلیٹ اقوام متحدہ کے آبادی فنڈز سے مفت میں فراہم کیے جاتے ہیں، اس کے علاوہ شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے صوبائی حکومتوں کو ڈیٹا آن لائن منتقل کیا جانا چاہیے۔سینیٹر تاج حیدر نے مطالبہ کیا کہ باہمی طور پر ایک مردم شماری کمیشن تشکیل دیا جائے، جس میں پی ای سی کی نگرانی کرنے کے لیے تسلیم شدہ ڈیموگرافرز شامل ہوں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ شماریات (پی بی ایس) کو اس کمیشن کو صرف لوجسٹکس اور انتظامی سروس فراہم کرنی چاہیے۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہاکہ پی بی ایس نے 2011 میں گھروں کی گنتی میں 4 ارب ڈالر ضائع کرنے کے بعد تقریباً 18 ارب روپے 2017 کی متنازع مردم شماری میں ضائع کیے اور وہ مسلسل اپنے ناکام طریقہ کار اور متنازعہ مردم شماری کی وضاحت دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن تسلیم شدہ اور باہمی اتفاق رکھنے والے ڈیموگرافرز کا کمیشن ہی عوام کا اعتماد حاصل کرسکتا ہے۔حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جنرل(ر) عبد القیوم نے اس حوالے سے رابطہ کرنے پر کہا کہ تمام جماعتوں کو اس بل کی سینیٹ میں منظوری کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور سیاسی مفادات کے لیے جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔آڈٹ کے طریقہ کار میں فوج کا کردار نہ ہونے والے مطالبے پر انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے طریقہ کار میں فوج کے کردار پر کسی سیاسی جماعت کی جانب سے اختلاف نہیں کیا گیا۔انہوں نے اس بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ مردم شماری میں تاخیر مطلوبہ تعداد میں فوجی دستوں کی عدم دستیابی کے باعث پیش آئی تھی اور اس بارے میں مشترکہ مفادات کونسل ( سی سی آئی) کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا جس پر کسی جماعت نے اعتراض نہیں کیا تھا۔ سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ جو لوگ پارلیمان کا حصہ نہیں انہیں بل کے معاملے میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے اور اپنے ارکان کو اجازت دینی چاہیے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ ڈالیں۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اراکین اس بل کی حمایت میں ووٹ ڈالنے سے گریز کرنے کے بجائے اس عمل کا حصہ بننا چاہیے، جس میں چاہے وہ بل کی حمایت میں ووٹ دیں یا پھر اس کی مخالفت میں ووٹ دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…