پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

سعودی عرب جانے والے عمرہ زائرین کیلئے بائیو میٹرک سسٹم سے تصدیق،پاکستان کے علاوہ دنیا کے مزید کتنے ممالک کے ساتھ ایسا سلوک ہوتاہے؟افسوسناک انکشاف

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر وزیر بلدیات ودیہی ترقی خیبرپختونخوا وپارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے پاکستانی عمرہ زائرین پر بائیو میٹرک تصدیق اور2ہزار ریال کی شرائط عائد کرنے سے ہزاروں افراد شدید متاثر ہوئے ہیں۔اس وقت پورے ملک میں عمرہ زائرین ٹکٹوں

کی بکنگ کے باوجود شدیدذھنی اذیت کا شکار ہیں۔ دنیا بھر میں پاکستان صرف واحد ملک ہے جہاں عمرہ زائرین کو بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے تصدیق کرانے کو کہاگیا ہے۔ عمرہ زائرین کے لیے بائیو میٹرک سسٹم پاکستان کے عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔سعودی حکومت نے بائیو میٹرک سسٹم کا ٹھیکہ ہندوستانی کمپنی کو دیا ہے جس کے ذریعے پاکستانیوں کا ڈیٹا براہ راست ہندوستان منتقل ہورہا ہے۔ پاکستان حکومت اس کے خلاف سفارتی سطح پر اواز بلند کریں اور سعودی حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔وہ اپنے دفتر میں مختلف وفو دسے بات چیت کر رہے تھے۔ سینئرو زیر عنایت اللہ خان نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت سعودی حکومت سے ان سخت شرائط عائد کرنے پر شدید احتجاج کرنا چاہئے اور بائیومیٹرک تصدیق اور2ہزارریال کی پابندی کو فی الفور ختم کروانا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی پہلے ہی سے بائیومیٹرک ہیں اور سعودی حکومت ائیرپورٹ پر فنگر پرنٹس لے رہے ہیں۔سعودی حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کر کے لاکھوں پاکستانیوں کو اذیت سے نجات دلائیں۔ اس وقت لاکھوں پاکستانی اس عمل سے متاثر ہورہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…