جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پرویز مشرف جب کسی ناپسندیدہ اعلیٰ سرکاری افسر کو فارغ کرنا چاہتے تو کیا طریقہ استعمال کرتے تھے ؟معروف کالم نگار اوریا مقبول جان کیساتھ کیا ، کیا جاتا رہا، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نامور کالم نگار ادیب اور سابق سینیئر بیوروکریٹ اوریا مقبول جان اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے بعد سوچا کیا کرنا چاہیے؟ ابھی نوکری میں 17 سال تھے اور یہ دور کسی بھی سول سروس میں رہنے والے شخص کے عروج کا ہوتا ہے۔ اچھی پوسٹوں پر ترقی ہوجاتی ہے۔ کسی محکمے یا صوبے کی سربراہی مل جاتی ہے۔ میں نے

شعوری فیصلہ کیا کہ بات دوٹوک کرنی ہے۔ یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ کسی شعر پر وقت کا حکمران پکڑ کرے اور اسے بتایا جائے میرے مخاطب آپ نہیں، ایوب خان تھے۔ حبیب جالب یہی کہتے تھے تم لوگ انقلاب کا نام بھی ایسے لیتے ہو، جیسے ’’ہائے! میری جان انقلاب!‘‘ کالم لکھنا شروع کیا، پرویز مشرف کا دور تھاجو کہ بڑا ہی تکلیف دہ تھا۔ پاکستان کے مسائل پر لکھا جا سکتا تھا، امریکا کا مگر نام لینا جرم تھا۔ آغاز ’’جنگ‘‘ سے کیا۔ ہفتے میں تین کالم طے تھے، تین میں سے بمشکل ایک چھپتا، دو مسترد ہوجاتے۔ یہ دو مضامین ہفت روزہ اخبار ’’ضربِ مومن‘‘ میں چھپنے کے لیے بھیج دیتا۔ بعد میں ’’حکمِ اذاں‘‘ کے نام سے جس کا مجموعہ بھی چھپ گیا۔ اس مرحلے میں کئی کٹھن مراحل کا سامنا کرنا پڑا۔ مثلاً پرویز مشرف کے دور میں میرے پیچھے نیب لگادی گئی۔ دو سال تحقیقات ہوتی رہیں۔ روز مجھے بلاتے، بٹھاتے اور انکوائری کرتے۔ دو سال بعد نیب سربراہ نے معذرت کی۔ کہنے لگے: ’’ہم نہیں چاہتے تھے کہ آپ کے ساتھ یہ سب ہو، مگر ہم ایسا کرنے پر مجبور تھے۔ اوپر سے دباؤ تھا۔‘‘ دراصل پرویز مشرف مجھے فارغ کرنا چاہتے تھے، مگر اس انداز سے کہ میرے اوپر بدنامی کا داغ لگ جائے۔ اللہ نے میری نصرت کی۔ بدعنوانی کا معمولی الزام بھی مجھ پر ثابت نہیں ہوسکا۔ میں عزت اور احترام کے ساتھ اپنی مدتِ ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…