جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

پرویز مشرف جب کسی ناپسندیدہ اعلیٰ سرکاری افسر کو فارغ کرنا چاہتے تو کیا طریقہ استعمال کرتے تھے ؟معروف کالم نگار اوریا مقبول جان کیساتھ کیا ، کیا جاتا رہا، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نامور کالم نگار ادیب اور سابق سینیئر بیوروکریٹ اوریا مقبول جان اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے بعد سوچا کیا کرنا چاہیے؟ ابھی نوکری میں 17 سال تھے اور یہ دور کسی بھی سول سروس میں رہنے والے شخص کے عروج کا ہوتا ہے۔ اچھی پوسٹوں پر ترقی ہوجاتی ہے۔ کسی محکمے یا صوبے کی سربراہی مل جاتی ہے۔ میں نے

شعوری فیصلہ کیا کہ بات دوٹوک کرنی ہے۔ یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ کسی شعر پر وقت کا حکمران پکڑ کرے اور اسے بتایا جائے میرے مخاطب آپ نہیں، ایوب خان تھے۔ حبیب جالب یہی کہتے تھے تم لوگ انقلاب کا نام بھی ایسے لیتے ہو، جیسے ’’ہائے! میری جان انقلاب!‘‘ کالم لکھنا شروع کیا، پرویز مشرف کا دور تھاجو کہ بڑا ہی تکلیف دہ تھا۔ پاکستان کے مسائل پر لکھا جا سکتا تھا، امریکا کا مگر نام لینا جرم تھا۔ آغاز ’’جنگ‘‘ سے کیا۔ ہفتے میں تین کالم طے تھے، تین میں سے بمشکل ایک چھپتا، دو مسترد ہوجاتے۔ یہ دو مضامین ہفت روزہ اخبار ’’ضربِ مومن‘‘ میں چھپنے کے لیے بھیج دیتا۔ بعد میں ’’حکمِ اذاں‘‘ کے نام سے جس کا مجموعہ بھی چھپ گیا۔ اس مرحلے میں کئی کٹھن مراحل کا سامنا کرنا پڑا۔ مثلاً پرویز مشرف کے دور میں میرے پیچھے نیب لگادی گئی۔ دو سال تحقیقات ہوتی رہیں۔ روز مجھے بلاتے، بٹھاتے اور انکوائری کرتے۔ دو سال بعد نیب سربراہ نے معذرت کی۔ کہنے لگے: ’’ہم نہیں چاہتے تھے کہ آپ کے ساتھ یہ سب ہو، مگر ہم ایسا کرنے پر مجبور تھے۔ اوپر سے دباؤ تھا۔‘‘ دراصل پرویز مشرف مجھے فارغ کرنا چاہتے تھے، مگر اس انداز سے کہ میرے اوپر بدنامی کا داغ لگ جائے۔ اللہ نے میری نصرت کی۔ بدعنوانی کا معمولی الزام بھی مجھ پر ثابت نہیں ہوسکا۔ میں عزت اور احترام کے ساتھ اپنی مدتِ ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہوگیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…