جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بے حرمتی کا شکار لڑکی نے خاموشی توڑ دی، علی امین گنڈا پور کے بارے میں ایسا شرمناک انکشاف کہ کپتان سمیت ساری پی ٹی آئی کا شرم سے پانی پانی ہو جائے

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈیرہ اسماعیل خان میں با اثر افراد کے ہاتھوں بے حرمتی کا شکار ہونے والی لڑکی نے پہلی بار میڈیا پر آکر خاموشی توڑ دی، علی امین گنڈا پور اور پولیس پرملزمان کا ساتھ دینے کا الزام۔ تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں با اثر افراد کے ہاتھوں بے حرمتی کا شکار ہونے والی لڑکی نے پہلی بار میڈیا پر آکر خاموشی توڑ دی ہے۔ نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی نے اپنے ساتھ انسانیت سوز سلوک کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ وہ تالاب سے پانی بھر کر واپس گھر جا رہی تھی کہ اسی دوران جب وہ ثناءاللہ کے گھر کے پاس پہنچی تو سجاول (مرکزی ملزم) اپنے ساتھیوں سمیت پیچھے سے نمودار ہوا اور آتے ہی اسے دھکا دے کر نیچے گرادیا جس کے بعد ملزمان نے اس پر حملہ کردیا، انہوں نے قینچیوں کی مدد سے لڑکی کے کپڑے تار تار کردیے۔ ’اس دوران میری ایک کزن نے مجھے جسم چھپانے کیلئے اپنا دوپٹہ دیا تو انہوں نے وہ بھی کھینچ لیا جس کے بعد میں بھاگی اور ایک گھر میں گھس کر چارپائی پکڑ لی، لیکن وہ میرے پیچھے ہی گھر میں آگئے اور مجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گلی میں لے آئے جس کے بعد وہ مجھے گلیوں میں گھماتے رہے۔ پھر انہوں نے مجھے ایک کار میں ڈال کر پورے گاؤں کے چکر لگوائے اور گاؤں سے باہر ایک جنگل کے قریب مجھے پھینک کر فرار ہوگئے۔ متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ اسے تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی علی امین گنڈا پور سے صرف یہ مسئلہ ہے کہ وہ ملزمان کی سرپرستی کر رہے ہیں کیونکہ ان کی سرپرستی کے بغیر ملزمان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ یہ سب کچھ کر سکتے۔ پولیس بھی ملزمان سے ملی ہوئی ہے اور مجھ پر مرضی کا بیان دلوانے کیلئے دبائو ڈالا گیا ہے۔ پولیس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مرضی کا بیان

نہیں دیا تو میرے سارے خاندان کو مقدمات میںالجھا دینگے۔ مقدمے کے تفتیشی افسر چاند شاہ نے میری والدہ کو منہ بند رکھنے کیلئے دھمکیاں دی گئیں ، وہ میری والدہ کو گندی گالیاں نکالتا رہا جبکہ ند شاہ نے بھی اسے کہا کہ وہ یہ بیان دے کہ ملزمان نے نہیں بلکہ اس نے خود ہی اپنے کپڑے پھاڑے ، تفتیشی افسر کی جانب سے سجاول (مرکزی ملزم) کا کیس سے نام نکلوانے کیلئے بھی مجھ پر اور میرے اہل خانہ پر دباؤ ڈالا گیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…