پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

پاک افغان سرحدپر باڑ کی تعمیر،امریکہ ،برطانیہ اور نیٹو ممالک کا موقف سامنے آگیا،افغانستان کا شدیدردعمل

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحدپر غیر قانونی آمدورفت روکنے کیلئے جب سے سرحد پر باڑ لگانا شروع کی گئی ہے تو افغانستان میں موجود پاکستانی شدت پسندوں نے پاکستانی پوسٹوں پر حملے زیادہ کر دیئے ہیں اور تقریباً دو ماہ میں چار حملے کر کے پانچ سکیورٹی اہلکاروں کو شہید اور کئی کو زخمی کر دیاہے ۔پیر کو باجو ڑمیں ایک چیک پوسٹ پرحملے سے پہلے 9نومبر کو دہشتگردوں نے خیبر ایجنسی میں راجگال میں

فائرنگ کر کے ایک فوجی کو شہید کر دیا تھا اس سے پہلے چار اکتوبر کو اسی علاقے میں ایک اور حملے میں ایک فوجی شہید ہوگیا تھا ۔23ستمبر کو کمانڈنٹ افسر لیفٹیننٹ ارسلان عالم بھی خیبر ایجنسی میں افغان سائیڈ سے فائرنگ میں شہید ہوگئے تھے ۔کالعدم تنظیموں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ٗپیر کو حملے کے بعد پاک فوج کے بیان میں کہا گیا تھا کہ افغان سائیڈ پر افغان حکومت کی رٹ کمزور ہونے کی وجہ سے دہشتگردوں کو اس طرح حملوں میں سہولت مل رہی ہے ۔پاکستان نے سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے باڑ لگانے کا کام شروع کیا ہے لیکن کہا جارہاہے کہ سرحد کے اس پار اس طرح اقدامات نہیں کئے گئے ہیں تاکہ اس طرف سے حملوں کو روکا جاسکے ۔پاکستان سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 2ہزار سے زائد کلو میٹر پاک افغان سرحد پر 2019تک کام مکمل کیا جائیگاٗ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً 2600کلو میٹر مشترکہ سرحد ہے جو زیادہ تر مشکل پہاڑی سے گزر رہی ہے ۔امریکہ ٗ برطانیہ اور نیٹو کے اکثر ممالک نے پاکستان کی جانب سے سرحد محفوظ بنانے کیلئے باڑ کی حمایت کی ہے ۔کابل میں برطانیہ کے سفیر نے بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سرحد محفوظ بنانے کیلئے باڑ لگانے کا حق حاصل ہے

تاہم افغان حکومت نے برطانیہ کے سفیر کے بیان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٗغیر ملکی سفیروں سے اس طرح کے معاملات پر خاموش رہنے کا مشورہ دیا ہے پاکستان کی جانب سے سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے جب سے باڑ لگانے کا کام شروع کیا گیا ہے تو افغانستان میں کچھ عناصر نے اس کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے اور گزشتہ ماہ افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق خوست میں کچھ لوگوں نے مبینہ طورپر باڑ کو کئی علاقوں سے ہٹادیا تھا ۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ باڑ کو ہر حال میں مکمل کیا جائیگا

جس سے نہ صرف افغانستان سے شدت پسندوں کی پاکستان میں داخلے کو روکا جائیگا بلکہ افغانستان کی جانب سے مسلسل الزامات لگائے جارہے کہ یہاں سے لوگ افغانستان تشدد کی کارروائیوں کیلئے داخل ہوتے ہیں ان کا بھی راستہ روکا جائیگا لیکن افغانستان میں اس وقت تک پاکستان کے باڑ لگانے کی صورت میں اپنی سائیڈ پر غیر قانونی آمدورفت روکنے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں ٗپاک فوج نے گزشتہ ماہ اخبار نویسوں کے ایک گروپ کو وزیر ستان کا دورہ کر نے کے موقع پر کہا تھا کہ پاکستان کی

سائیڈ پر سات چیک پوسٹوں کے بدلے میں افغان سائیڈ پر صرف ایک پوسٹ قائم کی گئی ہے یاد رہے کہ یکم اکتوبر کو فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دورہ کابل کے دور ان افغان حکام کو سرحد پر سکیورٹی بڑھانے سے متعلق گفتگو کی تھی ۔پاکستانی حکام نے کئی مرتبہ افغانستان کو پیشکش کی ہے کہ جس طرح سرحد محفوظ بنانے کیلئے پاکستان اپنی سائیڈ پر قلعے اور پوسٹ تعمیر کررہے ہیں اسی طرح نظام افغان سائیڈ پر بھی بنانے کیلئے تیار ہے تاہم افغانستان میں اس وقت تک اس پیشکش کے بارے میں مثبت جواب نہیں دیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…