جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کون سی خامی سلطنت نگل گئی؟ کیا کل کی پریس کانفرنس ایم کیو ایم کی سیاسی غلطی تھی،اس اتحاد کو اتنا غیر سنجیدہ کیوں لیا جا رہا ہے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

نواب آف بنگال سراج الدولہ انگریزوں کے راستے میں آخری رکاوٹ تھے‘ 1757ء میں پلاسی کی جنگ ہوئی‘ سراج الدولہ کو شکست ہوئی اور پورا ہندوستان انگریز کی جھولی میں چلا گیا‘ سراج الدولہ بڑا تگڑا حکمران تھا‘ دولت بھی بے تحاشا تھی‘ فوج بھی بڑی تھی اور گولہ بارود بھی تھا لیکن وہ اس کے باوجود جنگ ہار گیا‘ انگریزوں نے سراج الدولہ کی ہار کی تحقیقات کیں تو پتہ چلا وہ ایک شاندار شخص تھا‘ بس اس میں ایک خرابی تھی

وہ لوگوں کو بہت جلد معاف کر دیتا تھا اس کی یہ خامی اس کی سلطنت کو بھی نگل گئی اور پورے ہندوستان کو بھی۔ ہم عام لوگ اگر دوسروں کو جلد معاف کر دیں تو یہ ہماری خوبی ہوتی ہے لیکن اگر حکمران معافی میں جلد بازی کریں تو یہ ایک ایسی خامی ہوتی ہے جو بڑی بڑی ریاستوں کے زوال کی وجہ بن جاتی ہے‘ کل ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے بھی یہی غلطی کی‘ ان کے لوگ پی ایس پی میں بھی جا رہے تھے اور آصف علی زرداری نے ڈاکٹر عاصم کو بھی ایم کیو ایم کے لوگ توڑنے کا ٹاسک دے دیا تھا‘ سلیمان مجاہد بلوچ‘ خوش بخت شجاعت اور ڈاکٹر فوزیہ نے آصف علی زرداری سے ملاقاتیں کیں ‘ یہ گھبرا گئے اور انہوں نے گھبراہٹ میں ایک ہی رات پی ایس پی کے ساتھ مل کر ایک نام‘ ایک نشان اور ایک منشور کا اعلان کر دیا‘ انہوں نے اس مصطفی کمال کو چند لمحوں میں معاف کر دیا جوایم کیو ایم کو ناسور کہتے تھے ،جلد بازی میں معاف کرنے کی یہ غلطی پوری ایم کیو ایم کو لے کر بیٹھ گئی‘ پارٹی اب تین حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے‘ ایک حصہ پی ایس پی کے ساتھ اتحاد کیلئے رضامند ہے‘ دوسرا کسی قیمت پر ایم کیو ایم کا نام‘ نشان اور منشور چھوڑنے کیلئے تیار نہیں اور تیسرا حصہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کر چکا ہے چنانچہ یوں محسوس ہوتا ہے ایم کیو ایم شاید اب چند دنوں کی مہمان ہے‘ یہ پارٹی بہت جلد ق لیگ یا آل پاکستان مسلم لیگ بن جائے گی اور مجھے یوں بھی محسوس ہوتا ہے الطاف حسین کی طرح اب فاروق ستار بھی مائنس ہورہے ہیں۔کیا کل کی پریس کانفرنس ایم کیو ایم کی سیاسی غلطی تھی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کل کے اتحاد کو سنجیدہ نہیں لے رہی ،اس اتحاد کو اتنا غیر سنجیدہ کیوں لیا جا رہا ہے‘ ہم اس پروگرام میں یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…