جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

صبر کا پیمانہ لبریز،وفاقی حکومت کیخلاف ایک اور محاذکھلنے کو تیار

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

پشاور (آن لائن)خیبرپختونخواہ حکومت نے کہا ہے کہ وفاق کے ذمہ دار بجلی کے سالانہ منافع اور بقایات کی مد میں واجبات بڑھ کر51ارب ہوگئے اور ایک پائی تک ہمیں ادا نہیں کی گئی جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کو مزید خطوط لکھنے کی بجائے اب احتجاج کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخواہ کے حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کے سالانہ منافع اور بقایاجات کی مد میں خیبرپختونخوا

کے مرکز کے ذمہ جاری و گزشتہ مالی سالوں کے واجبات بڑھ کر 51 ارب تک پہنچ گئے اور مرکز نے رابطوں کے باوجود صوبائی حکومت کو صوبہ میں اپنے طور پر گیس یا تیل سے بجلی پیدا کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا جس کے خلاف صوبائی حکومت نے صدر یا وزیراعظم کو مزید خطوط لکھنے کی بجائے احتجاج کرنے کی تیاریاں تیز کردیں۔ صوبائی وزئیر خزانہ مظفر سید اڈووکیٹ نے رابطہ پر بتایا کہ مرکز نے خیبر پختونخوا کو بجلی منافع کے بقایا جات کی مد میں جاری مالی سال کے 15 ارب میں سے ایک پائی تک ادا نہیں کی جبکہ گزشتہ مالی سال کیلئے بھی اس مد میں 8 ارب روپے مرکز کے ذمہ بقایا ہیں جبکہ سالانہ منافع کی مد میں جاری مالی سال کے 18 ارب اور گزشتہ مالی سال کیلئے 10 ارب روپے مرکز کے ذمہ واجب الادا ہیں جو مجموعی طور پر 51 ارب روپے بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نہ صرف یہ کہ یہ واجبات دبارکھے ہیں بلکہ این ایف سی کے تحت صوبہ کا جو حصہ بنتا ہے وہ بھی تو اترکے ساتھ ادا نہیں کررہا جس کی وجہ سے صوبہ کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…