اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

قائداعظم یونیورسٹی میں طلباء کا احتجاج29ویں روز داخل

datetime 31  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)قائداعظم یونیورسٹی میں طلباء کا احتجاج29ویں روز داخل ہوگیا جبکہ قوم پرست طلبہ تنظیم نے کہا ہے کہ ساتھیوں کی بحالی تک تدریسی عمل بحال نہیں ہونے دیا جائے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جامعہ سے نکالے گئے طلباء کو بحال نہ کیے جانے پر

بلوچ طلبہ کونسل نے متعدد ڈیپارٹمنٹس کو تالے لگا کریونیورسٹی شٹل سروس بھی روک دی ہے۔ بلوچ طلبہ کونسل کا کہنا ہے کہ ساتھی طلباء کی بحالی تک تدریسی عمل بحال نہیں ہونے دیں گے۔ذرائع کے مطابق سیاسی مداخلت کے باعث ضلعی انتظامیہ احتجاج کرنے والے طلبا کیخلاف کارروائی سے گریزکررہی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جب تک یونیورسٹی انتظامیہ تحریری طور پر کارروائی کی درخواست نہیں دے گی ضلعی انتظامیہ کسی قسم کی کارروائی نہیں کریں گی تاہم پولیس کی بھاری نفری قائد اعظم یونیورسٹی کے گیٹ پرموجود رہی۔یونیورسٹی انتظامیہ مشتعل طلباء کے معاملے کو سنبھالنے میں تاحال ناکام ہے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مختلف ڈیپارٹمنٹ کو طلباء نے تالے لگا رکھے ہیں جبکہ شٹل سروس بند ہونے کے باعث تدریسی عمل بحال کرنے میں مسائل کا سامنا ہے۔واضح رہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں طلبہ کا مخصوص دھڑا گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج

کررہا ہے تاہم گزشتہ ہفتے پولیس نے حالات پر قابو پاکر تدریسی عمل بحال کرادیا تھا۔ یونیورسٹی میں پیر کو طلبہ نے سامنے آکراحتجاج تو نہ کیا لیکن طلبہ کے اس مخصوص دھڑے نے یونیورسٹی کی بسوں کے ٹائروں سے ہوا نکال دی جس کے باعث یونیورسٹی کی شٹل سروس معطل ہوگئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…