منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بڑی سیاسی جماعت نے اسمبلیوں سے استعفے کی دھمکی دیدی، سیاسی حالات کشیدہ

datetime 22  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ دباؤ کی صورتحال میں وفاداری تبدیل کرنے کا عمل ختم نہ کیا گیا تو ہم صوبائی، قومی اور سینیٹ سے استعفیٰ دے کر سیاسی عمل سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وفاداری کی تبدیلی کا عمل ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے، آج ہم نے پھر اپنے ایم این ایز ،ایم پی ایز سے پوچھا

ہے اگر دباؤ ہے تو دل کھول کر حقائق بیان کریں۔فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے اراکین اسمبلی کو واضح پیغام دیا کہ اگر کسی کو پارٹی پالیسی سے اختلاف ہے تو مستعفیٰ ہوجائے تاہم اگر کہیں سے وفاداری تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے تو ہمیں آگاہ کریں ہر بڑے فورم اور دنیا کے سامنے آواز اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے آج سینیٹرز، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے استعفیٰ لکھوا لیے ہیں، آئندہ اگر ہمارے لوگوں پر دباؤ ڈالا گیا تو بیک وقت تمام ایوانوں سے مستعفیٰ ہوجائیں گے۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ اراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کروا کے ہمیں وفاق سے باہر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، دوسری پارٹیوں میں جانے والے نمائندوں نے ابھی تک استعفیٰ نہیں دیے اور وہ تاحال تنخواہیں حاصل کررہے ہیں۔اُن کا مزید کہنا تھاکہ سینیٹ سے شہری سندھ کی ایک نشست چھین کر پیپلزپارٹی کو دینے کی سازش کی جارہی ہے جس سے ہم بروقت پردہ اٹھا رہے ہیں، ایوانوں سے استعفوں کا اثر براہ راست مارچ میں ہوگا کیونکہ اُس وقت سینیٹ کے انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔یاد رہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے الزام ہے کہ مقتدر حلقے اراکین اسمبلی کو دباؤ میں لاکر پی ایس پی میں شمولیت کروارہے ہیں جبکہ مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ متحدہ کے متعدد اراکین اسمبلی اُن سے رابطے میں ہے۔پی ایس پی ذرائع کے مطابق دسمبر میں متحدہ کے مزید صوبائی اور قومی

اسمبلی کے اراکین مصطفیٰ کمال کی جماعت میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں، حال ہی میں متحدہ کے رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ نے پارٹی لیڈر شپ پر الزام عائد کیا کہ فاروق ستار سمیت دیگر رہنماء پی ایس پی قیادت سے مستقل رابطے میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…