منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرپشن ہی کرپشن : عمران خان کی عین ناک کے نیچے پرویز خٹک کیا ، کیا گل کھلاتے رہے، اربوں روپے کے سکینڈل بے نقاب

datetime 20  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخواہ میں بھی کرپشن سکینڈلز سامنے آنے لگے، آئل اینڈ گیس رائلٹی پر اپنے ہی ارکان اسمبلی نے صوبائی حکومت پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی جیونیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق آئل اینڈ گیس کی مد میں وفاق سے ملنے والے اربوں روپے میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے 9اکتوبر کو خیبرپختونخوا

اسمبلی اجلاس میں کرک سے تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی گل صاحب خان نے خٹک حکومت مالی بے ضابطگیوں کا ذمہ دار قرار دیا ۔ گل صاحب کا کہنا تھا کہ بجلی ، تیل اور گیس کی مد میں وفاقی حکومت کی جانب سے اربوں روپے کی ادائیگی کی جاتی ہے لیکن صوبائی حکومت 10 فیصد فنڈز اضلاع کو نہیں دے رہی۔اسی اجلاس کے دوران پرویز خٹک کے مشیر برائے جیل خانہ جات قاسم خٹک نے بھی اپنے حلقے مین 55کروڑ روپے کے منصوبوں کے التوا کا انکشاف کیا۔ اس سے قبل اپنا گھر کے ڈائریکٹر حارث خان خٹک نے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کیلئے دباؤ پڑنے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ امتیاز گیلانی اور دیگر ارکان فنڈز میں خورد برد کر رہے ہیں ، اس ساری صورتحال کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو آگاہ کردیا تھا لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی کے سربراہ اور ایک رکن بے قاعدگیوں کی وجہ سے مستعفی ہوگئے تھے۔ بینک آف خیبر سکینڈل بھی منطقی انجام کو نہ پہنچ سکا اور صوبائی حکومت اربوں روپے کی خورد برد کے ذمہ دار قرار دئیے گئے ضیا اللہ آفریدی بھی طویل عرصہ جیل میں رکھنے کے باوجود کچھ ثابت نہ کر سکی۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اپنی سابقہ اتحادی جماعت جمہوری وطن پارٹی کو

کرپشن الزامات پر حکومت سے الگ کر چکی ہے ۔ ان گنت سکینڈل منظر عام پر آنے کے باوجود ان میں سے ایک بھی سکینڈل اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچ سکا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…