منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قصہ ہی ختم ۔۔ختم نبوت فارم میں تبدیلی رات کے اندھیرے میں کس نے کروائی ، یہ شاہد خاقان عباسی نہیں بلکہ کون ہے؟ سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی اندر کی کہانی سامنے لے آئے

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے ختم نبوت فارم سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ اس قسم کا اقدام اٹھائیں۔ ختم نبوت فارم میں تبدیلی کروانے والوں نے کروائی جن کے پاس اختیارات ہیں، اس موقع پر پروگرام کے میزبان

ڈاکٹر دانش نے جب سوال کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف نے ختم نبوت فارم میں تبدیلی کروائی تو ظفر اللہ خان جمالی کا کہنا تھا کہ جو بھی آئین پاکستان کے مطابق چیف ایگزیکٹو کے فرائض سرانجام دے رہا ہے اسے اس کیلئے ذمہ دار سمجھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بل شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم بننے کے بعد لایا گیا اور اس وقت نواز شریف جا چکے تھے اور شاہد خاقان عباسی چیف ایگزیکٹو تھے لہٰذا وہی اس کے ذمہ دار سمجھے جائیں گے مگر ان میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ اس طرح کا کام کریں، میں واضح طور پر تب اس شخص کا نام لے سکتا تھا جس نے یہ کام کیا جب میں اس بل کی کمیٹی کا ممبر ہوتا یا اس بل سے متعلق مجھ سے مشاورت کی گئی ہوتی یہ لوگ رات کے اندھیرے میں چلتے ہیں ، موجودہ وزیراعظم اگر اس میں ملوث نہیں تو پھر سابق وزیراعظم نواز شریف نے یہ کام کروایا ہو گا۔ میں نے ختم نبوت کے معاملے پر وزیر قانون سے رابطہ کیا اور انہیں کہا کہ آپ سے یہ امید نہیں تھی، جس کے جواب میں زاہد حامد نے کہا کہ یہ کمیٹی کا فیصلہ ہے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جس نے بھی بل پاس کیا وہ بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔سوال اٹھتا ہے کہ بل بغیرپڑھے کیسے پاس کر لیا گیا، اسمبلی میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی وزیر اس کا ذمہ دار ہے اسے نکال باہر کرنا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…