جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

قصہ ہی ختم ۔۔ختم نبوت فارم میں تبدیلی رات کے اندھیرے میں کس نے کروائی ، یہ شاہد خاقان عباسی نہیں بلکہ کون ہے؟ سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی اندر کی کہانی سامنے لے آئے

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے ختم نبوت فارم سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ اس قسم کا اقدام اٹھائیں۔ ختم نبوت فارم میں تبدیلی کروانے والوں نے کروائی جن کے پاس اختیارات ہیں، اس موقع پر پروگرام کے میزبان

ڈاکٹر دانش نے جب سوال کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف نے ختم نبوت فارم میں تبدیلی کروائی تو ظفر اللہ خان جمالی کا کہنا تھا کہ جو بھی آئین پاکستان کے مطابق چیف ایگزیکٹو کے فرائض سرانجام دے رہا ہے اسے اس کیلئے ذمہ دار سمجھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بل شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم بننے کے بعد لایا گیا اور اس وقت نواز شریف جا چکے تھے اور شاہد خاقان عباسی چیف ایگزیکٹو تھے لہٰذا وہی اس کے ذمہ دار سمجھے جائیں گے مگر ان میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ اس طرح کا کام کریں، میں واضح طور پر تب اس شخص کا نام لے سکتا تھا جس نے یہ کام کیا جب میں اس بل کی کمیٹی کا ممبر ہوتا یا اس بل سے متعلق مجھ سے مشاورت کی گئی ہوتی یہ لوگ رات کے اندھیرے میں چلتے ہیں ، موجودہ وزیراعظم اگر اس میں ملوث نہیں تو پھر سابق وزیراعظم نواز شریف نے یہ کام کروایا ہو گا۔ میں نے ختم نبوت کے معاملے پر وزیر قانون سے رابطہ کیا اور انہیں کہا کہ آپ سے یہ امید نہیں تھی، جس کے جواب میں زاہد حامد نے کہا کہ یہ کمیٹی کا فیصلہ ہے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جس نے بھی بل پاس کیا وہ بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔سوال اٹھتا ہے کہ بل بغیرپڑھے کیسے پاس کر لیا گیا، اسمبلی میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی وزیر اس کا ذمہ دار ہے اسے نکال باہر کرنا چاہئے۔

موضوعات:



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…