منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’انٹیلی جنس بیورو کا جعلی خط‘‘ اےآر وائی ٹی کیخلاف مقدمہ درج

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) موقر قومی روزنامے ’’ڈان ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں سے تعلق کے حوالے سے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) سے منسوب 37 اراکین پارلیمنٹ کی فہرست کو نشر کیے جانے کے معاملے پر ہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں آئی بی کے ڈائریکٹر عمران خان جدون نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر خبر نشر کرنے پر ایک نجی چینل کے خلاف مقدمہ درج کروادیا جس پر صحافتی حلقوں کی جانب

سے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی بی کے ڈائریکٹر کی جانب سے دائر کروائی جانے والی ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات 420، 468، 471، 500 اور 505 کو شامل کیا گیا ہے۔ایف آئی آر میں اے آر وائے نیوز پر نشر کی جانے والی آئی بی سے منسوب کی گئیں جھوٹی دستاویزات پیش کرنے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی درخواست کی گئی ہے، ’جس کے باعث اراکین پارلیمنٹ اور حساس ریاستی ادارے کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی‘۔رپورٹ کے مطابق 25 اور 27 ستمبر کے درمیان نامعلوم افراد نے آئی بی کے لیٹر پیڈ پر ایک جعلی خط تیار کیا، جس میں 37 حکومتی اراکین پارلیمنٹ پر دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہونے کا الزام لگایا گیا، جسے بعد میں ٹی وی پر نشر بھی کیا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق ’آئی بی کے ساتھ منسوب کی گئیں خبروں کے باعث ایک حساس ریاستی ادارے کی دیانت داری کو نقصان پہنچا‘۔دوسری جانب آئی بی کے اس اقدام پر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ (آر آئی یو جے) کی جانب سے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا، صحافتی تنظیم نے ٹی وی چینل کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے حوالے سے 7 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی اور وزیر داخلہ سے ایف آئی آر کے فوری طور پر اخراج کا مطالبہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…