پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

’’تمام اندازے غلط ثابت ہوئے‘‘ پاکستانی وزیر اعظم کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟

datetime 20  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان جیسے اعلیٰ ترین عہدے پر براجمان شخصیت کی تنخواہ پاکستان میں سب سے زیادہ سرکاری تنخواہ ہوگی۔ جبکہ حقیقت بالکل اس کے بر عکس ہے۔نجی ٹی وی چینل ’’دنیا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق عمومی رائے کے برعکس ، پاکستانی وزیر اعظم کی ماہانہ تنخواہ انتہائی کم سطح پر مقرر کی گئی ہے ، خاص طور پر اگر اس کا موازنہ پارلیمانی نمائندوں،

وفاقی وزرا، جج صاحبان اور دوسرے سرکاری افسروں کے پیکیج سے کیا جائے ۔ نہ صرف یہ بلکہ خطے کے کئی ممالک کے وزرائے اعظم کی تنخواہ بھی پاکستانی وزیر اعظم سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے تمام الاؤنسز سمیت ماہانہ تنخواہ ٹیکس کٹوتی کے بعد محض 140,000 (ایک لاکھ چالیس ہزار روپے ) بنتی ہے جبکہ سینیٹرز کی تنخواہ 400,000 (چار لاکھ روپے )، ایم این اے کی 350,000 (ساڑھے تین لاکھ روپے )، وفاقی وزیر کی 235,000 (دو لاکھ پینتیس ہزار) اور وزیر مملکت کی تنخواہ 215,000 ( دو لاکھ پندرہ ہزار روپے ) بنتی ہے ۔ مختلف عوامی نمائندگان کی تنخواہ پر نظر دوڑانے سے پتا چلتا ہے کہ شاید اسے مقرر کرتے وقت کوئی منطقی بنیاد سامنے نہیں رکھی جاتی ۔ وزیرا عظم جو حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیت ہوتی ہے ، بظاہر بغیر کسی منطقی وجہ کے ا س کا ماہانہ مشاہرہ کم ترین ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مناسب حد تک مقرر کی گئی تنخواہ کسی بھی ملازم کے کام کرنے کی صلاحیت پر مثبت طور پر اثر انداز ہوتی ہے ، کیونکہ مالی طور پر آسودگی بہت سی پریشانیوں کو ختم کرنے کا باعث بنتی ہے ۔ خاص طور پر اگر ایک وزیر اعظم مالی فکروں سے آزاد ہو تو وہ اپنا کام بہتر طور پر انجام دے سکتا ہے ۔ اگر وزیر اعظم نے اپنے دور حکومت میں دوسری ملازمت یا بالواسطہ طریقوں سے اپنی مالی ضروریات پوری

کرنی ہے تو یقیناً اس کی وزیر اعظم کے طور پر ذمہ داریاں متاثر ہو سکتی ہیں ۔ شاید اسی وجہ سے کرپشن کے راستے کھلنے کا خطرہ بھی منڈلانا شروع کر دیتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…