پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

1965کی جنگ میں ،میں نے بھارتی جنرل کی گاڑی پر کیسے قبضہ کیا ؟ اور آج کل یہ گاڑی کہاں موجود ہے؟ ایک پاکستانی غازی کے دلچسپ انکشافات

datetime 14  ستمبر‬‮  2017 |

چکوال(آئی این پی) 1965کی جنگ میں چھ ستمبر کو بھارتی جنرل کی گاڑی افواج پاکستان نے قبضہ میں لیکر جس جرات ،بہادری سے فخر ہند ڈویژن کا حملہ روکا تھا ، سوشل میڈیا پر بھارتی جنرل کی گاڑی کی تصویر وائرل ہونے پر پورے برصغیر ،ہندو پاکستان میں ہلچل مچ گئی ہے۔ہندوستان کے جنرل ہیڈ کوارٹر میں بھارتی جرنیلوں نے سر جوڑ لیے ہیں کہ چھ ستمبر کی شام کو

پاکستان پر قبضہ کے علاوہ جن خانہ لاہور میں بھارتی جرنیلوں نے شراب پارٹی کرنی تھی اور یہ کس طرح یہ سارا منصوبہ ناکام ہوا، ہندوستان کے عوام اپنی فوجیوں سے پوچھ رہے ہیں کہ پہلے روز ہی بھارتی جنرل جو کہ فخر ہند ڈویژن کی کمانڈ کر رہا تھا اپنی جیپ چھوڑ کر کس طرح وہاں سے بھاگا ہے اس کا جواب دیا جائے اور پوری ہندوستانی قوم کو اعتماد میں لیا جائے کہ جب بھارتی جرنیلوں کی یہ پوزیشن ہے تو وہاں پر باقی فوج کی کیا صورتحال ہوگی۔ 6ستمبر 1965کو معرکہ بی آر بی لاہور کے غازی کیپٹن مقبول حسین جنہوں نے بھارتی جنرل کی دو سٹار والی گاڑی کی تصویر یوم دفاع پاکستان پر چکوال پریس کلب کو دی تھی اس کے وائرل ہونے پرافواج پاکستان کے بھی کئی سینئر افسران نے کیپٹن مقبول حسین سے چھ ستمبر کے معرکے کے حوالے سے فیڈ بیک لیا ہے۔ کیپٹن مقبول حسین نے پھر دوہرایا کہ جب بی آر بی پہ پُل اڑا دیا گیا تھا تو بھارتی جنرل کی مذکورہ جیپ کو پاکستانی توپ خانے نے ہٹ کیا تھا اور اس کا ناکارہ بنایا تھا اور چھ ستمبر کو یہ جیپ کھڑی تھی جسے آٹھ ستمبر کو نائیک سجاول حسین جس کا تعلق میانی ضلع چکوال سے ہے وہ بھارتی جنرل کی جیپ کو دھکیل کر اپنی یونٹ میں لایا تھا۔ کیپٹن مقبول حسین کے مطابق بھارتی جنرل کی جیپ اب بھی 18بلوچ رجمنٹ کوارٹر گارڈ کے پاس موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…