جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

اب تک 1000قیدی اوپن یونیورسٹی کی تعلیمی نیٹ میں شامل ہوچکے ہیں ، وائس چانسلر اوپن یونیورسٹی

datetime 13  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے پاکستان بھر کی جیلوں میں مقید افراد کے لئے مفت تعلیمی پالیسی تشکیل دی ہے تاکہ سزا مکمل ہونے کے بعد وہ پرامن اور عزت کی زندگی گزارسکیں اور معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں۔ یونیورسٹی کے شعبہ داخلہ نے ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کو بی اے سطح تک مفت تعلیم فراہم کرنے کے لئے داخلہ فارم اور پراسپکٹس تمام جیلوں کو ارسال کردئیے ہیں۔ یہ

فارم تمام قیدیوں میں مفت تقسیم کئے جائیںگے۔ قیدیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ داخلہ فارم کو مکمل کرکے 28ِ۔ستمبر تک جمع کرائیں۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی قیدیوں کی تعلیم میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں ٗ انہوں نے ملک بھر کے جیلوں میں مقید افراد کے لئے یونیورسٹی کے مفت تعلیمی منصوبے کے ذیل میں مزید سہولتوں کا اضافہ کیا ہے اور منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے انہوں نے بذات خود سینٹرل جیل راولپنڈی ٗ لاہور ٗ کوئٹہ اور ملتان کا دورہ کیا اور ہر جیل میں موجود قیدیوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں سلسلہ تعلیم شرع کرنے کی جانب راغب کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی کے مطابق منصوبے کا اصل مقصد زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو تعلیمی نیٹ میں لانا ہے تاکہ سزا مکمل ہونے کے بعد وہ پرامن اور عزت کی زندگی گزارسکیں اور معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں۔ منصوبے کے تحت قیدیوں کو داخلہ فارم اور پراسپکٹس جیل کے اندر ہی مفت فراہم کئے جاتے ہیں اور ان کے لئے تدریسی ورکشاپس ٗ ٹیوٹوریل میٹنگز اور فائنل امتحانات بھی جیل کی حدود کے اندر ہی منعقدکئے جائیں گے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی مختلف جیلوں میں 1000سے زائد قیدی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ہم زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو تعلیمی نیٹ میں لانا چاہتے ہیں۔یونیورسٹی کے فوکل پرسن ٗ زاہد

مجید کے مطابق جیلوں کو ارسال کرنے والے تمام داخلہ فارمز پر “صرف قیدیوں کے لئے”کی مہر لگائی دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…