اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

اب تک 1000قیدی اوپن یونیورسٹی کی تعلیمی نیٹ میں شامل ہوچکے ہیں ، وائس چانسلر اوپن یونیورسٹی

datetime 13  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے پاکستان بھر کی جیلوں میں مقید افراد کے لئے مفت تعلیمی پالیسی تشکیل دی ہے تاکہ سزا مکمل ہونے کے بعد وہ پرامن اور عزت کی زندگی گزارسکیں اور معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں۔ یونیورسٹی کے شعبہ داخلہ نے ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کو بی اے سطح تک مفت تعلیم فراہم کرنے کے لئے داخلہ فارم اور پراسپکٹس تمام جیلوں کو ارسال کردئیے ہیں۔ یہ

فارم تمام قیدیوں میں مفت تقسیم کئے جائیںگے۔ قیدیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ داخلہ فارم کو مکمل کرکے 28ِ۔ستمبر تک جمع کرائیں۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی قیدیوں کی تعلیم میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں ٗ انہوں نے ملک بھر کے جیلوں میں مقید افراد کے لئے یونیورسٹی کے مفت تعلیمی منصوبے کے ذیل میں مزید سہولتوں کا اضافہ کیا ہے اور منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے انہوں نے بذات خود سینٹرل جیل راولپنڈی ٗ لاہور ٗ کوئٹہ اور ملتان کا دورہ کیا اور ہر جیل میں موجود قیدیوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں سلسلہ تعلیم شرع کرنے کی جانب راغب کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی کے مطابق منصوبے کا اصل مقصد زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو تعلیمی نیٹ میں لانا ہے تاکہ سزا مکمل ہونے کے بعد وہ پرامن اور عزت کی زندگی گزارسکیں اور معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں۔ منصوبے کے تحت قیدیوں کو داخلہ فارم اور پراسپکٹس جیل کے اندر ہی مفت فراہم کئے جاتے ہیں اور ان کے لئے تدریسی ورکشاپس ٗ ٹیوٹوریل میٹنگز اور فائنل امتحانات بھی جیل کی حدود کے اندر ہی منعقدکئے جائیں گے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی مختلف جیلوں میں 1000سے زائد قیدی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ہم زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو تعلیمی نیٹ میں لانا چاہتے ہیں۔یونیورسٹی کے فوکل پرسن ٗ زاہد

مجید کے مطابق جیلوں کو ارسال کرنے والے تمام داخلہ فارمز پر “صرف قیدیوں کے لئے”کی مہر لگائی دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…