اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب نے پاکستان سے معافی مانگ لی، حیرت انگیز اعلان

datetime 12  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) منیٰ میں ناقص حج انتظامات کرنے پر سعودی عرب نے پاکستان سے معافی مانگ لی ہے، تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت نے منیٰ میں ناقص حج انتظامات پر پاکستان سے معافی مانگ لی ہے اور اگلے سال پاکستانی عازمین حج کو بہتر سہولیات دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ واضح رہے کہ سرکاری حج سکیم کے تحت حج پر جانے والے پاکستانیوں نے وزارت مذہبی امور کے فیس بک صفحے اور واٹس ایپ گروپ میں سعودی حکومت کے

ناقص انتظامات کے حوالے سے شکایات کی تھیں، عازمین حج نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور منیٰ میں خیمے نہ ملنے کے باعث انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، کئی عازمین حج نے وزارت مذہبی امور کے خلاف سہولیات نہ دینے پر سخت الفاظ بھی استعمال کیے۔ عازمین حج کے ان الزامات کے بعد وزارت مذہبی امور نے سارا ملبہ سعودی حکومت پر ڈال دیا۔ وزارت مذہبی امور کے ترجمان عمران صدیقی نے ایک قومی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ منیٰ کے بعد حجاج کرام کو خوراک، ٹرانسپورٹ اور رہائش فراہم کرنا سعودی حکومت کی ذمہ داری تھی اور پاکستانی حکام اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتے تھے، وزارت مذہبی امور نے عازمین حج کے اخراجات کے لیے رقم بھی پہلے ادا کر دی تھی۔ وزارتِ مذہبی امور نے موساساہ جنوبی ایشیا کے چیئرمین کو ایک خط بھی لکھا ہے اس کے علاوہ سعودی حکومت کے پاس پاکستانی عازمین حج کے مسائل کے حوالے سے ایک شکایت بھی درج کرا دی ہے۔ وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت نے پاکستان کو ان حجاج کرام کی رقوم واپس کردی ہیں جن کو ٹرانسپورٹ کی سہولیات نہ مل سکیں اور انہیں 20 سے25 کلومیٹر تک پیدل چلنا پڑا۔ وزارت مذہبی امور نے 11ہزار 70 پاکستانی حجاج کرام کو 2.98 ملین سعودی ریال واپس کردیے ہیں

اس میں سے 250 ریال ہر حاجی کو ملیں گے۔ وزارت مذہبی امورکے ترجمان نے کہا کہ خادم حرمین الشریفین کی خصوصی دعوت پر جانے والے 3 ہزار پاکستانی حجاج کرام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان حجاج کا تعلق ایلیٹ کلاس سے تھا اور ان حجاج کو بھی فٹ پاتھ پر سونا پڑا، سعودی عرب کی حکومت نے انہیں صرف ویزہ فراہم کیا مگر ان کے لیے کھانا، رہائش اور ٹرانسپورٹ کا کوئی انتظام نہیں کیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…