جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

میجر راجہ عزیز بھٹی شہید (نشان حیدر ) کا یوم شہادت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

datetime 12  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی)بری فوج کے عظیم سپوت اور جنگ ستمبر 1965ء کے ہیرو میجر راجہ عزیز بھٹی شہید (نشان حیدر ) کا یوم شہادت گزشتہ روز عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا ۔ میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کی پیدائش 16اگست 1928ء کو ہانگ کانگ میں ہوئی۔ ان کا خاندان قیام پاکستان سے قبل ہی دوبارہ گجرات آکر رہائش پذیر ہوگیا۔ انہوں نے بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ پنجاب ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور پھر 1956ء میں

میجر کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ستمبر 1965ء میں جب دشمن وطنِ عزیز پر حملہ آور ہونے کی کوشش کررہا تھا تو میجر عزیز بھٹی شہید کو برکی سیکٹر پر دشمن کی پیش قدمی روکنے کا حکم ملا۔ میجر عزیز بھٹی دشمن کی راہ میں بہت بڑا کانٹا ثابت ہوئے وہ ایک چٹان اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند دشمن کے سامنے ڈٹ گئے اور اپنی کمال مہارت اور عسکری صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو ایک قدم آگے بڑھنے سے بھی بعض رکھنے میں کامیاب ہوئے۔12ستمبر 1965کے روز جب دشمن کی جانب سے پاک فوج پر بھاری گولہ باری کی جارہی تھی تو میجر صاحب نے اپنے مورچے سے نکل کر اپنے سپاہیوں کو ہدایات جاری کیں۔ تاہم اسی دوران ایک توپ کا گولہ میجر عزیز بھٹی شہید کو آکر لگا اور انہوں نے وطنِ عزیز کی خاطر شہادت کا اعلی رتبہ حاصل کرلیا۔وطنِ عزیز کے دفاع میں دشمنوں کے دانت کھٹے کرنے اور شہادت کا اعلی درجہ پانے والے میجر عزیز بھٹی شہید کی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے اعزاز نشان حیدر سے نوازا۔ میجر صاحب نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والے تیسرے پاکستانی سپوت تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…