جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ اس قدر گھٹیا مذاق ،عامر لیاقت اور وقار ذکا روہنگیا مسلمانوں کے نام پر قوم کیساتھ افسوسناک فراڈ کا انکشاف

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ) ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیلئے میانمار گئے تھے لیکن انہیں ڈی پورٹ کردیا گیا ۔ ایک ہی روز میں تمام تر کارروائیاں ہونے پر سوشل میڈیا پر لوگوں نے سوالات اٹھانے شروع کردیے ہیں اور بعض لوگوں نے تو ان کے بورڈنگ پاس دیکھتے ہوئے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وہ صرف بنکاک سے ہی ڈرامہ کرکے واپس پاکستان آگئے اور کبھی میانمار گئے ہی نہیں۔

ویب سائٹ پڑھ لو نے عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا کے بورڈنگ پاس کو بنیاد بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں شخصیات میانمار گئی ہی نہیں۔ ویب سائٹ اپنے دعوے کی سچائی کیلئے دلیل دیتے ہوئے لکھتی ہے کہ ایک دن دونوں حضرات دبئی سے فلائٹ لے کر بنکاک گئے اور وہاں سے کنیکٹنگ فلائٹ لے کر ینگون پہنچے اور پھر وہاں گرفتار ہو کر پاکستان بھی واپس پہنچ گئے، ایک ہی دن میں ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ برما میں گرفتار ہونے والے ڈاکٹر عامر لیاقت اور وقار ذکا پاکستان واپس پہنچ گئے، دونوں کس حال میں ہیں اور واپس کیسے پہنچے؟ حیران کن دعویٰ سامنے آگیا سوشل میڈیا پر بھی عامر لیاقت حسین اور روقار ذکا کے بورڈنگ پاس کو ہی بنیاد بنا کر صارفین یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر دونوں اینکرز واقعی میانمار گئے تھے تو وہاں کے بورڈنگ پاس کہاں ہیں اور صرف بنکاک کا ہی بورڈنگ پاس کیوں شیئر کیا گیا ہے؟۔دوسری جانب ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ انہیں میانمار پہنچتے ہی گرفتار کرلیا گیا اور 6 گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد ڈی پورٹ کردیا گیا۔ ویب سائٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر پاکستان سے براہ راست میانمار کوئی فلائٹ جاتی ہی نہیں تو پھر عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا کو براہ راست پاکستان کیسے واپس بھجوادیا گیا؟

اس دعویٰ کو اس وقت مزید تقویت ملتی ہے جب عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا کی میانمار یاترا کے سفر کے وقت کا جائزہ لیا جائے۔ کیونکہ ایک دن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ دوملکوں کی کنیکٹنگ فلائٹ لے کر ایک ملک پہنچیں اور پھر وہاں 6 گھنٹے گرفتار رہیں، جس کے بعد آپ اسی دن اپنے وطن واپس بھی پہنچ جائیں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…