اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

صنعتی فضلے کے باعث کینجھر جھیل کا پانی آلودہ ہو رہا ہے،اقدامات نہ کیے گئے تو اس کا خمیازہ مقامی آبادی اور کراچی کو بھگتنا پڑے گا،ورلڈ وائلڈ فنڈ برائے پاکستان

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی) ورلڈ وائلڈ فنڈ برائے پاکستان نے متنبہ کیا ہے کہ کوٹری اور نوری آباد کے صنعتی فضلے کے باعث کینجھر جھیل کا پانی آلودہ ہو رہا ہے اور اگر اس حوالے سے اقدامات نہ کیے گئے تو اس کا خمیازہ مقامی آبادی اور کراچی کے شہریوں کو بھگتنا پڑے گا۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے زیر اہتمام مہران یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ ٹیکنالاجی جامشورو کے یو ایس- پاکستان سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹیڈیز ان واٹر کے تعاون سے

کینجھر جھیل پر عالمی ہفتہ آب کے حوالے سے منعقد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہران یونیورسٹی آف انجینئر نگ اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر عبداللطیف قریشی نے کہا کہ پانی سماجی، ثقافتی اور روحانی اہمیت کا حامل ہے تاہم دنیا کے ایک ارب 80 کروڑ عوام پینے کے لیے آلودہ پانی کا استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث ان میں مختلف بیماریاں پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی تک لوگوں کی رسائی میں کمی واقع ہو رہی ہے اور پینے کا صاف پانی ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔حکومت اور غیر سرکاری ادارے عوام کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے لیے اس ضمن میں سرمایہ کاری کریں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اکثر شہروں میں پینے کے صاف پانی کی قلت ہے تاہم عوام پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے متعلق تدابیر سے نا آشنا ہیں ہمیں استعمال شدہ پانی کو ضائع کرنے کے بجائے اسے دوبارہ پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے، استعمال شدہ پانی کو ہم اپنے گھروں اور سبزہ اگانے کے لیے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی سینئر ماحولیاتی آفیسر کومل نعیم نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور پہلے سے کم ہونے والے آبی ذخائر کے باعث پاکستان پر دبائوبڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ان سر فہرست ممالک شامل ہے

جہاں زرعی، صنعتی اور گھریلو استعمال کے لیے پانی کی طلب میں اضافے کے باعث مستقبل میں خوراک اور پانی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔تقریب میں طلبا اور اساتذہ کے علاوہ ڈبلیو ڈبلیو ایف، محکمہ آبپاشی، محکمہ جنگلات کے افسران اور شہریوں نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر عالمی ہفتہ آب کے حوالے سے ایک آگاہی ریلی بھی نکالی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…