اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹر قدیر ایٹمی مواد سر پر اٹھا کر توکسی کو نہیں دیتے رہے کس کی جیب میں کتنا پیسہ گیا؟۔۔رحمان ملک نے بڑا دھماکہ کر ڈالا

datetime 31  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایٹمی پھیلاؤ کے معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ اس معاملے کا فرد واحد ہی ذمہ دار ہے کیونکہ ڈاکٹر قدیر خان ہر گز ایٹمی مواد سر پر اٹھا کر تو نہیں لے گئے ہوں گے، فرحت اللہ بابر،حقائق ان کیمرہ بتانے کے لیے تیار ہوں کہ کس

کی جیب میں کتنے پیسے گئے تھے، رحمان ملک۔ تفصیلات کے مطابق سینٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی نے ایٹمی پھیلائو کے حوالے سے پرویز مشرف کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پرویز مشرف کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے متعلق بیان پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویزمشرف کے بیان سےایٹمی پھیلاؤ میں پاکستانی تعاون کے بین الاقومی موقف کو تقویت ملے گی۔ ایٹمی پھیلاؤ کے معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ اس معاملے کا فرد واحد ہی ذمہ دار ہے کیونکہ ڈاکٹر قدیر خان ہر گز ایٹمی مواد سر پر اٹھا کر تو نہیں لے گئے ہوں گے۔ ہم کہتے تھے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایٹمی معاہدہ یک طرفہ ہے اب انھیں یہ کہنے کا جواز مل گیا ہے کہ پاکستان ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث ہے۔اس موقع پر چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے یہ بیان اس وقت کیوں دیا اور معاملے کو اس وقت کیوں دوبارہ کھولا گیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان بھی آیا ہے جبکہ یہ معاملہ بہت حساس ہے۔انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اگر یہ بیان کسی سویلین صدر یا وزیر اعظم کی جانب سے آتا تو اسے چھوڑا نہیں گیا ہوتا تاہم اگر ایوان سمجھے تو اس معاملے پر سینیٹ کے پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی میں زیر غور لایا جائے گا۔پی پی پی کے سینیٹر رحمٰن ملک نے کہا کہ اس معاملے پر حقائق ان کیمرہ بتانے کے لیے تیار ہوں کہ کس کی جیب میں کتنے پیسے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…