جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

شریف فیملی کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا،واجد ضیا ء گواہ بن گئے،حیرت انگیزانکشافات

datetime 30  اگست‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی ) شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا ء نے بطور گواہ نیب کے لاہور ڈویژن میں بیان ریکارڈ کرا دیا۔واجد ضیاء نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہوئے اور ڈی جی نیب کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم کے روبرو شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحق ڈار کے خلاف ریفرنس کے سلسلے میں نیب حکام کے سوالات کے جواب دئیے۔

نیب کے افسران نے واجد ضیا ء سے دستاویزات، ان کی صداقت اور دستاویزات کے ذرائع سے متعلق سوالات پوچھے واجد ضیا، ڈی جی نیب لاہور اور ان کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے تین گھنٹے تک موجود رہے۔ اس موقع پر جے آئی ٹی کے سربراہ کو چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب سے منظور شدہ سوالنامہ پیش کیا گیا اور انہوں نے تمام سوالات کے تحریری جوابات دئیے۔ذرائع نے بتایا کہ واجد ضیاء نے تمام ریکارڈ کی جانچ پڑتال، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے اور تمام مواد کی ترتیب سے آگاہ کیا، اس کے علاوہ نیب کی ٹیم کو انکوائری رپورٹس اور انکم ٹیکس ریٹرنز سمیت تمام دستاویزات کے فرانزک معائنے سے بھی آگاہ کیا گیا۔جے آئی ٹی کے سربراہ نے نیب کو 28 گواہوں کے بیانات کے بارے میں آگاہ کیا اور بیرونی ممالک سے باہمی قانونی مشاورت اور والیم 10 کی تفصیلات بھی فراہم کیں جبکہ واجد ضیا ء نے گواہان سے منی ٹریل، قرضوں کی تفصیل، تحفوں اور جائیدادوں سے متعلق دستاویزات سے بھی نیب ٹیم کو آگاہ کیا۔خیال رہے کہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا منگل کے روز گواہ کے طور پر نیب کے راولپنڈی آفس میں پیش ہوئے تھے اور انہوں نے شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحق ڈار کے خلاف ریفرنس کے سلسلے میں نیب حکام کے سوالات کے جواب دئیے تھے۔قبل ازیں واجد ضیاء پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیر پورٹ پہنچے اور بعد ازاں نیب ہیڈ کوارٹرلاہور آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…