جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

ہنگامی اقدامات کا انتباہ،پاکستان میں جلد ہی کیا ہونیوالا ہے؟ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 23  جولائی  2017 |

کراچی(این این آئی)ماہرین نے خبردار کیاہے کہ پاکستان کو اگلے 30برسوں تک خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ،2050 تک دنیا بھر میں غذائی بحران سنگین ہو سکتا ہے ۔ پاکستان میں اناج پیدا کرنے کا عمل روایتی ہے ،موسم کا پیٹرن بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے ، دنیا بھر کی طرح یہ پاکستان کیلئے بھی خطرہ ہے ، زرعی شعبہ کو ہنگامی بنیادوں پر ترجیح دینا ہو گا۔ ماہرین کے مطابق زمین پرآبادی میں افزائش مسلسل جاری ہے لیکن زمین کا رقبہ اتنا ہی ہے اور زراعت کیلئے کاشت والے علاقے بھی کم ہو رہے ہیں،

اس کی وجہ شہروں کا پھیلاو ہے ،اس وقت زمین پر بھوک کے پھیلنے کی کیفیت یہ ہے کہ ہر 9 میں سے ایک شخص خوراک سے محروم ہے ، اناج میں کمی کی ایک وجہ زمین کی زرخیزی میں کمی بھی بتائی جاتی ہے ۔سماجی ماہرین کا واضح طور پر اس صورت حال کے تناظر میں کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے کا عمل تو روکنا ناممکن ہے ،سن 2030 میں دنیا کی آبادی8ارب 60 کروڑ کے لگ بھگ ہو جائے گی اور سن 2050 میں یہ آبادی10ارب کے قریب پہنچ جائیگی،اگر اسی رفتار سے آبادی بڑھتی رہی تو تراسی برس بعد زمین پر11ارب سے زائد نفوس بستے ہوں گے ۔سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر پیدا ہونے والے اناج سے خوراک کم نہیں ہوئی ہے لیکن اصل مسئلہ اس کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا ہے ، ان ماہرین کے مطابق خوراک کھانے سے زیادہ ضائع کی جاتی ہے اور یہی بھوک میں افزائش کی بنیاد ہے ۔ اس عمل میں ضروری ہے کہ خوراک کے ضائع ہونے کے سلسلے کو کسی طرح روکا جائے اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو بھوک کا نشان مٹانا آسان ہو گا۔زرعی سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے زمین بردگی کا عمل جاری ہے اور کئی زرعی علاقے اب کاشت کے قابل نہیں رہے ، اس کی ایک بنیادی وجہ زیرزمین پانی کی کمیابی اور نمکیات میں اضافہ بھی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…