جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ہسپتالوں ، تعلیمی اداروں، عوامی مقامات پرکینٹینز بند،کیٹرنگ کمپنیوں ،شادی ہالوں کو سیل کرنے کا حکم،حتمی تاریخ کا اعلان کردیاگیا

datetime 2  جولائی  2017 |

لاہور(این این آئی) شادی ہالوں، شادی بیاہ و دیگرتقریبات میں کھانا فراہم کرنے والی کیٹرنگ کمپنیوں ، سرکاری دفاتر ،تعلیمی اداروں ،پارکوں، ہسپتالوں اور دیگر عوامی مقامات پر صرف منظور شدہ کمپنیوں کو کھانے پینے کے کاروبارکی اجازت ہو گی۔ایسے تمام مقامات پر اشیاء خوردونوش کی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی لائسنس کا حصول لازم قرار دے دیا گیا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے لائسنس کے حصول کے لیے 15جولائی کی حتمی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل کی طرف سے جاری کرد ہ حکم نامے میں تمام شادی ہالوں ، کیٹرنگ کمپنیوں، کینٹین کے کاروبار سے منسلک اور اشیاء خوردونوش کی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس کے حصول کے لیے 15جولائی کی حتمی تاریخ دی گئی ہے ۔ 15جولائی تک لائسنس حاصل نہ کرنے والوں کو کاروبار کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔اس حوالے سی ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل کا کہنا تھا کہ شادی ہالوں اور کینٹینوں سے روزانہ کی بنیاد پر بھاری تعداد میں لوگ کھانا کھاتے ہیں۔ ایسے مقامات پر محفوظ اور صاف ستھری غذاء کی فراہمی یقینی بنا کر خوراک سے پیدا ہونے والے مسائل سے کافی حدتک عوام کومحفوظ رکھا جا سکتاہے۔ تمام کمپنیوں کو لائسنس یافتہ بنانے کا مقصد کھانے کے کاروبار میں قوانین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد کولانا اور کسی بھی جگہ پر کھانے کے کاروبار سے منسلک افرادکے مکمل کوائف کی بدولت ان پر مکمل نگرانی کے عمل کو موثر بنانا ہے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے مزید بتایا کہ لائسنس یافتہ کمپنیوں سے سپلائی لینے کی صورت میں ملاوٹ اور جعل سازی کرنے والے مافیا کی نشاندہی اورروک تھام بھی ممکن ہو سکے گی۔کسی بھی جگہ سے ناقص یا ملاوٹی اشیاء خوردونوش کے برآمد ہونے کی صورت میں اس کے سپلائر سے ملاوٹ کے ماخذکی تلاش ممکن ہو سکے گی۔ 2ماہ قبل سے تمام کمپنیوں کو شرائط پوری کرنے اور لائسنس بنوانے کی وارننگ دی جا رہی تھیں۔ اب اس حوالے سے 15جولائی کی حتمی تاریخ دے دی گئی ہے جس کے بعد کسی بھی غیر منظور شدہ کمپنی کو کا م کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…