جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

میٹرو بس لاہورکوکتنے روپے فی کلومیٹر ادائیگی کی جارہی ہے؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 30  جون‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی)پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ناصر رمضان گجر نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے لاہور میٹروبس چلانے والی کمپنی سے معاہدے کے وقت فاش غلطیاں کی گئیں جس سے صوبائی خزانے پر کروڑوں روپے کا ناجائز بوجھ ڈال کر کمپنی کو مالی فوائد پہنچائے گی جو غیر قانونی ہیں۔

پنجاب میٹروبس اتھارٹی نے 2013میں ترکی کی کمپنی میسرز پلیٹ فارم کو کسی دوسری کمپنی سے مقابلہ کے بغیر ہی لاہور میٹروبس چلانے کا ٹھیکہ فی بس360روپے فی کلومیٹر کے ریٹ پر دیا گیا اس وقت کے ڈیزل ریٹ 101روپے فی لیٹر کو معاہدہ کی 8سالہ مدت کیلئے تسلیم کیا گیا جو2020تک لاگو ہے ۔ریکارڈ کے مطابق 103روپے لیٹر کا ریٹ صرف چند ہفتے رہا اور اس کے بعد مسلسل ریٹ گرتا رہااور اوسطاً83روپے51پیسے فی لیٹر رہا لیکن پنجاب میٹرو بس اتھارٹی کی طرف سے360روپے فی کلومیٹر فی بس ادائیگی تاحال جاری ہے اس طرح لاہور میٹروکمپنی کو روزانہ71لاکھ سبسڈی میں سے12لاکھ روزانہ کی ناجائزادائیگی کی جارہی ہے جو قومی خزانہ پر بوجھ ہے ۔ بروز جمعہ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ ہاؤس میں کارکنوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ ناصر رمضان گجر نے کہا کہ ترکی کی کمپنی کو اب تک33کروڑ43لاکھ روپے ناجائز طور پر اداء کیے گئے آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ نے تمام پول کھول دیا ۔انہوں نے کہا کہ لاہور میٹروبس منصوبہ سفید ہاتھی ثابت ہورہا ہے اور صرف ایک روٹ پر سبسڈی جبکہ باقی روٹس پر مہنگا کرایہ سے پورے پنجاب میں احساس محرومی جنم لے رہا ہے ۔ اس لیے معاہدہ پر نظرثانی کرکے قومی دولت بچائی جائے ۔اسی طرح کے معاہدے راولپنڈی اور ملتان میٹروبس کے سلسلہ میں بھی کیے گئے جو قومی خزانہ پر بوجھ اور کرپشن کے مترادف ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…