جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں پہلی بار ’’حیرت انگیز‘‘پاسپورٹ‘ کا اجراء،پہلا پاسپورٹ حاصل کرنے کا اعزازپشاور کو مل گیا

datetime 25  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستانی حکومت نے تاریخ میں پہلی بار ’مخنث پاسپورٹ‘ کا اجراء کرتے ہوئے پشاور سے تعلق رکھنے والی مخنث کو خصوصی پاسپورٹ جاری کردیا جبکہ خصوصی پاسپورٹ حاصل کرنے والی مخنث فرزانہ ریاض نے کہاہے کہ نیا پاسپورٹ انہیں دنیا بھر میں ایک مخنث کے طور پر اپنی صلاحیتیں منوانے میں مدد فراہم کرے گا۔غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فرزانہ ریاض نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں خصوصی پاسپورٹ مل چکا ہے جس پر جنس کے خانے میں مرد اور عورت کے بجائے ایکس درج ہے۔ انہوں

نے بتایا کہ اس سے پہلے جو ان کے پاس پاسپورٹ تھا، اس میں ان کی جنس مرد کے طور پر درج تھی اور اس کو لیتے وقت انہوں نے حکومتی عہدیداروں سے کہا تھا کہ انہیں اس وقت تک پاسپورٹ منظور نہیں ہے، جب تک اس میں جنس کے خانے میں مخنث نہیں لکھا جاتا۔نیا پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد فرزانہ ریاض نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ دنیا بھر میں کسی بھی پریشان کے بغیر سفر کرسکتی ہیں،پہلے انہیں کئی عالمی ایئرپورٹس پر مسائل کا سامنا رہتا تھا، کیوں ان کی جسمانی ساخت اور پاسپورٹ میں درج جنس میں فرق ہوتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…