جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

شاندار نوکری اورماڈلنگ کا دھوکہ دیکر پاکستانی لڑکیوں سے ”دھندہ“ کرائے جانے کا انکشاف،یہ گھناؤنا کاروبار کون کررہاہے؟ نام جان کر پولیس بھی ششدر

datetime 14  جون‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کی31 لڑکیوں کو ہیروئن بنانے کا جھانسہ دیکر فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس میں خواجہ سرا اور برطرف لیڈی پولیس کانسٹیبل پر مشتمل گروہ ملوث ہے ، فروخت ہونے والی لڑکیوں میں طالبات بھی شامل ہیں، اعلیٰ پولیس افسروں نے بیرون ممالک سے ملزموں کی گرفتاری کیلئے ٹیم تشکیل دیدی ہے ۔روزنامہ دنیاکے مطابق لیڈی کانسٹیبل پروین کوچند سال قبل کرپشن اور مختلف سنگین

شکا یات پرنوکری سے برطرف کیا گیا تھا ،لیڈی کانسٹیبل اور اسکے ساتھی پولیس اہلکاروں نے ایک گروہ بنا لیا جس میں خواجہ سرا سنی ،مون ،ریشم ،فیصل وغیرہ دس افراد شامل تھے ،اس گروہ کیخلاف سابق انسپکٹر انچارج انویسٹی گیشن دانش رانجھا اور ایس ایچ او سبزہ زار شاہ زیب نے سنگین نوعیت کے مقدمات درج کئے تھے ،اس گروہ کی نشاندہی پر دیگر ملزموں کو گرفتار کیا گیا ، گینگ گرفتاری کے خوف سے لاہور سے راولپنڈی منتقل ہوگیا ،جہاں انہوں نے اشتہارات سے کئی معصوم طالبات اور لڑکیوں کو بیرون ممالک میں پرکشش نوکری دلانے اور ٹیلی فلموں میں کام کرانے کا جھانسہ دیکر اپنے جال میں پھنسایا اور پانچ لڑکیوں کو دبئی لے گئے اور ہوٹلوں کے مالکان کو فروخت کردیا ،لڑکیوں کو ڈرایا دھمکایا گیا ،فرح نامی سیکنڈ ایئر کی طالبہ وہاں سے چند ماہ بعد بھاگ کر واپس آ گئی اور سارا واقعہ سابق ایس ایس پی راولپنڈی کرامت کو بتایا، پولیس نے جب گروہ کے ڈیرے پر چھاپہ مارا تو بنگلے پر تالا لگا ہوا تھا ۔پولیس کو بتایا گیا کہ اس گروہ میں چند خواجہ سرا بھی شامل ہیں جن کا تعلق جہلم ،کھاریاں سے ہے ، ان کیخلاف لڑکیوں پر تیزاب پھینکنے ، بلیک میلنگ اور بدکاری و دیگر مقدما ت درج ہیں، لاہور گلبرگ تھرڈ ،راولپنڈی چاندنی چوک ،فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے قریب ان کے دفاتر ہیں ،یہ گروہ سات برسوں سے طالبات اور لڑکیوں

کو بیرون ممالک نوکری دلانے اور فلموں میں کام کرانے کے سبز باغ دکھا کر اپنے چنگل میں پھنسا کر د بئی ،فلپائن ،بنکاک میں لاکھوں روپے میں فروخت کر دیتا ہے ، لڑکیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا، انکو بدکاری کیلئے مجبور کیا جاتا ،نہ ماننے پر لڑکیوں کے چہر وں پر تیزاب پھینک دیا جاتا تاکہ دوسری لڑکیاں خوفزدہ ہوکر بدکاری کا دھندہ کریں، ذرائع کے مطابق اس گروہ کے سیاسی شخصیات کے علاوہ پولیس افسروں سے بھی گہرے مراسم ہیں ،بعض کیسوں میں پولیس افسروں نے ان کی مدد کی اور ملزموں کو جیلوں سے رہا بھی کرایا ۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے مختلف شہروں لاہور ،فیصل آباد ،جہلم ،راولپنڈی ،کھاریاں ،ملتان سے تیس سے زائدلڑکیوں کو بیرون ممالک میں فروخت کیا ، ابتک کئی لڑکیوں کا سراغ ہی نہیں مل سکا ،گینگ کا سربراہ ہاشم علی خان بتایا جاتا ہے جو دبئی میں مقیم ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ٹیم ملزموں کے موبائل نمبر ٹریس کررہی ہے اس گروہ کے مکمل کوائف افسروں کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…