جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

’’ایک ہی دن روزے کا معاملہ‘‘ مفتی پوپل زئی کی گرفتاری!!!

datetime 24  مئی‬‮  2017 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وطن عزیز میں ایک ہی دن روزہ اور عید جیسے ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ سرکاری اور غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کے مابین اختلافات سے سب سے زیادہ نقصان عوام کو پہنچ رہا ہے۔ رواں سال بھی پشاور میں سرکاری اور غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کے الگ الگ اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے جس کی وجہ سے ایک بار پھر روزہ ایک ہی دن رکھنے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔اس حوالے سے صوبائی حکومت نے بھی معذوری کا اظہار کر دیا ہے۔

صوبائی وزیر مذہبی امور حاجی حبیب الرحمان کا کہنا ہے کہ ایک ہی دن روزہ رکھنا اور عید کرنا وفاقی کا کام ہے، اس حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو گرفتار بھی کریں تو کس قانون کے تحت کریں؟دوسری جانب خیبر پختونخوا رویت ہلال کمیٹی کے سینئر رکن مولانا عبد الغفور نے امید ظاہر کی ہے کہ اس بار مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو مشترکہ اجلاس بلانے پر راضی کر لیا جائے گا۔ملک بھر میں ایک ہی دن روزہ رکھنے اور عید منانے کی راہ میں قانون سازی حائل ہے جس کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں سے کسی نے بھی سنجیدہ کوششیں نہیں کیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…