بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

افغان حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کا وطن عزیز کیخلاف مکروہ منصوبہ بے نقاب افغان سرحدی علاقوں میں کیا کیا جا رہا ہے؟پاک فوج ناقابل تردید ثبوت سامنے لے آئی

datetime 19  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے پاس ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ افغانستان پاکستان میں دراندازی اور افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال ہو رہی ہے، پاک فوج نے افغان حکومت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق شمالی وزیرستان میں فوجی ہیڈکوارٹر میں مقامی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل ہارون نے بتایا ہے کہ

افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ ایکسپریس ٹربیون کی ایک رپورٹ کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل ہارون کا کہنا تھا کہ مواصلاتی سیارے کے ذریعے حاصل کردہ تصاویر اور گرائونڈ رپورٹس کے مطابق یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سرحد کے دوسری جانب افغانستان کے ضلع ننگرہار کا علاقہ پارچو کالعدم تحریک طالبان پاکستان خالد سجنا گروپ اور داعش کی سرگرمیوں کا گڑھ بن چکا ہے جہاں دہشتگردوں کے تربیتی کیمپس موجود ہیں۔ان کا کہنا تھاکالعدم تحریک طالبان کے اعلیٰ سطحی کمانـڈر عبدالولی کی افغان ضلع ننگر ہار میں رہائش گاہ ہے ، وہ پارچو کے علاقے کو دہشتگردانہ سرگرمیوں کیلئے مرکز بنائے ہوئے ہے۔پاک فوج کے افسر کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی نـظام کو ترتیب دینے کیلئے پاکستان نے اپنے سرحدی علاقوں میں 205چیک پوسٹس قائم کیں جبکہ افغانستان کی جانب 133چیک پوسٹس افغان فوج نے بنائی ہیں جو کہ ناکافی ہیں۔العدم تحریک طالبان کے اعلیٰ سطحی کمانـڈر عبدالولی کی افغان ضلع ننگر ہار میں رہائش گاہ ہے ، وہ پارچو کے علاقے کو دہشتگردانہ سرگرمیوں کیلئے مرکز بنائے ہوئے ہے۔پاک فوج کے افسر کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی نـظام کو ترتیب دینے کیلئے پاکستان نے اپنے سرحدی علاقوں میں 205چیک پوسٹس قائم کیں جبکہ افغانستان کی جانب 133چیک پوسٹس افغان فوج نے بنائی ہیں جو کہ ناکافی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…