بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

غیرملکیوں کو’’پاکستانی گردوں‘‘کی فروخت،مرکزی ملزم گرفتار،گھناؤنے دھندے میں کون کون ملوث تھا؟افسوسناک انکشافات

datetime 12  مئی‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی)صوبائی درالحکومت میں گردوں کی غیرقانونی پیوندکاری کا معاملہ، ایف آئی اے نے مری سے گردہ سکینڈل کے مرکزی ملزم ثاقب سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایف آئی اے نے گردوں کی غیرقانونی پیوندکاری میں ملوث ڈاکٹرالتمش اور ڈاکٹر فواد سمیت چھ ملزمان کو گرفتار کیا تھا جن کی نشاندہی پر مختلف علاقوں میں گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری کے ایجنٹس کے خلاف بھی شکنجہ کسا جا رہا ہے۔

ایف آئی اے نے گروہ کے سربراہ ثاقب خان کو مری کے ایک ریسٹورنٹ سے گرفتار کرلیاحکام کا کہنا ہے کہ ثاقب، اس کا دوست فضائل اور بہنوئی قمر ایف آئی اے سے بچنے کے لیے کچھ عرصے سے چترال کلاش ویلی میں روپوش ہوگئے تھے جن کی موبائل ٹریکر کی مدد سیمری کی لوکیشن آئی تو ایف آئی اے نے کارروائی کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان بیرون ممالک سے گردوں کے مریضوں کو لاہور لاتے جہاں ڈاکٹرثاقب اور التمش کی مدد سے پیوندکاری کی جاتی تھی جس کے لیے اب تک یہ لوگ کروڑوں روپے غیرقانونی طریقے سے کما چکے ہیں ایف آئی اے نے ملزمان کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کو فرانزک چیکنگ کے لیے سائبر کرائم ونگ کے حوالے بھی کر دیا۔۔ایک نجی ٹی وی کے مطابقایف آئی اے کے مطابق گردوں کی غیر قانونی ٹرانسپلانٹ کا کام چند سالوں سے عروج پر ہے پہلے صرف پولیس کے پاس کارروائی کرنے کے لئے اختیارات تھے لیکن وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد نے 31مارچ2017کو ایف آئی اے کو بھی گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار دے کر اس گھناؤنے کام میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کے لئے ایف آئی اے کو ٹاسک دیا۔باوثوق زرائع کے مطابق لاہور میں واقع پانچ اسپتالوں کے ڈاکٹرز اسے گھناؤنے کام میں ملوث ہے، جن کے خلاف تحقیقات جاری ہے جلد انہیں قانون کے شکجے میں لایا جائے گا۔

ایف آئی اے زرائع کا مزید کہنا ہے کہ گردے کی غیر قانونی  پیوند کاری میں ڈاکٹر فواد ممتاز خان کی گرفتاری کے بعد ا س گھناؤنے کام میں ملوث  ڈاکٹرز نے فوری طور پر گردوں کی غیر قانونی ٹرانسپلانٹ کا کام روک دیا ہے اور بعض  ڈاکٹرروپوش بھی ہوگئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…