بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ایران اورنہ ہی بھارت ۔۔ہمارایہ اہم ترین کام توصرف پاکستان ہی کرسکتاہے ،افغانستان کاایسااعتراف کہ دوہمسایہ ممالک کی پریشانی کاکوئی ٹھکانہ نہ رہا

datetime 11  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر زاخیل وال کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان سے بہتر کوئی سہولت کار نہیں ہوسکتا۔افغانستان میں امن کے حوالے سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان سفیر کا کہنا تھا کہ افغانیوں سے زیادہ مخلص کوئی نہیں، ہمارے کردار پر شک نہ کیا جائے۔ایران اور سعودی عرب کا تعاون بھی افغانستان میں قیام امن کے لیے اہم ہے

قیام امن کے لیے پاکستان کو سہولت کار قرار دیتے ہوئے افغان سفیر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت مل کر کوشش کریں تو امن کا قیام ممکن ہے، جبکہ ایران اور سعودی عرب کا تعاون بھی افغانستان میں قیام امن کے لیے اہم ہے۔ساتھ ہی خطے میں جاری قیام امن کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امن کے بارے میں بات کرنے سے پہلے امن کا مطلب سمجھنا ضروری ہے، 2001 میں امریکی اتحاد کے سامنے واضح اہداف تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ منظرنامہ دھندلا گیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک غلطی تھی؟ساتھ ہی افغانستان میں قیام امن کے لیے مخلص علاقائی تعاون اور کوششوں پر زور دیتے ہوئے عمر زاخیل وال نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے بہت سے عوامل شروع کیے گئے ہیں، مگر ان کی افادیت پر کئی سوالیہ نشانات کھڑے ہوتے ہیں۔خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر عمر زاخیل وال طالبان اور داعش کے درمیان بھی اقتدار کی لڑائی ہے انہوں نے کہا کہ داعش خطے میں پروان چڑھتا نیا درندہ ہے، طالبان اور داعش کے درمیان بھی اقتدار کی لڑائی ہے، تاہم طالبان کو چند ممالک کی پس پردہ حمایت حاصل ہے۔افغانستان کی شورش کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں پتہ پاکستان افغانستان میں کیا کرنا چاہتا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر طالبان افغانستان میں واپس قدم نہیں جما سکتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…