بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

’’ہر عظیم خزانے کے پیچھے کوئی جرم ہوتا ہے‘‘ کوئی وزیراعظم تو کوئی سپریم کورٹ کا جج۔۔ سعد رفیق نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے پانامہ کیس فیصلے پر کیا کچھ کہہ دیا؟

datetime 2  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)’’ہرخوش قسمتی کے پیچھے جرم نہیں ہوتا‘‘کوئی وزیراعظم بنتا ہے تو خوش قسمتی کسی کو سپریم کورٹ کا جج بنا دیتی ہے، سینئر صحافی و اینکرپرسن نے پروگرام کے دوران پانامہ کیس میں جسٹس کھوسہ کے دئیے گئے فیصلے میں گارڈ فادر کے جملے ’’ہر عظیم خزانے کے پیچھے جرم ہوتا ہے‘‘بارے وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق کے ٹی وی انـٹرویو کا کلپ چلا دیا۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے ایک پروگرام میں سینئر صحافی و اینکرپرسن سمیع ابراہیم نےپانامہ کیس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دئیے گئے فیصلے میں ناول ’’گارڈ فادر‘‘کے جملے ’’ہر عظیم خزانے کے پیچھے جرم ہوتا ہے‘‘کے اقتباس کو شامل کرنے پر وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا 27اپریل کو دئیے گئے ٹی وی انٹرویو کا کلپ چلا دیا ، کلپ چلانے سے قبل سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر نے اپنے انٹرویو میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کو طعنہ بھی دیا ہے۔ کلپ میں خواجہ سعد رفیق انٹرویو دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی فیملی کو ہم جانتے ہیں، ان کے پانامہ کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس ہمیں سخت تکلیف پہنچاتے تھےاور ہم محسوس کرتے تھے کہ کیس کی سماعت کے دوران ایسے ریمارکس کی ضرورت نہیں تھی۔ پانامہ کیس فیصلے بارے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے فیصلے میں ایک ناول کا ذکر کیا ہے، خوشی قسمتی ہر بار کسی جرم کا نتیجہ نہیں ہوتی، خوش قسمتی کو سبھی کو ملتی ہے۔ کوئی خوش قسمتی سے وزیراعظم بنتا ہے ،کوئی سپریم کورٹ کا جج بنتا ہے۔خوشی قسمتی ہر بار کسی جرم کا نتیجہ نہیں ہوتی، خوش قسمتی کو سبھی کو ملتی ہے۔ کوئی خوش قسمتی سے وزیراعظم بنتا ہے ،کوئی سپریم کورٹ کا جج بنتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…