بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

’’بھارت کو بڑا جھٹکا ۔۔ناکوں چنے چبوا دیے ‘‘ پاکستان نے بھارتی اہم چیزوں پر پابندی لگا دی

datetime 25  اپریل‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)سندھ تاجر اتحاد (ایس ٹی آئی) اور سندھ کی تاجر تنظیموں نے ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے پاکستانی مصنوعات رکھنے والی دکانوں پر حالیہ حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ایس ٹی آئی نے سندھ بھر میں اپنے تمام اراکین کو ہدایت کی کہ 15 مئی تک بھارت سے درآمد اور اسمگل شدہ تمام مصنوعات کو اپنی دکانوں سے ہٹادیں۔ایس ٹی آئی کی جانب سے میٹھادر اور اولڈ سٹی ایریا میں احتجاج کے دوران بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ٗ

چند شرکاء نے بھارتی مصنوعات کو آگ لگا دی۔ایس ٹی آئی کے چیئرمین جمیل پراچا نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو دھمکیوں اور حملوں جبکہ بھارتی فورسز کی کشمیریوں کے قتل کی مذمت کی۔انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان مظالم کے باوجود بھارتی اشیاء کثیر تعداد میں پاکستان آتی ہیں۔ایس ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری اسماعیل لیالپوریا نے کہا کہ بھارت کی اکثر اشیا دبئی اور ایران کے راستے سے یہاں پہنچتی ہیں۔ایس ٹی آئی کیرہنماؤں نے حکومت پر بھارتی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے پر زور دیا۔جوڑیا بازار کے ایک بڑے تاجر کا کہنا تھا کہ بھارت کی صرف اْن اشیا کو پاکستان میں منگوایا جاتا ہے جو چینی مصنوعات کے مقابلے میں سستی اور بہتر ہوتی ہیں۔ آل کراچی تاجر اتحاد (اے کے ٹی آئی) کے صدر عتیق میر نے کہا کہ نہ ہی پاکستان اور نہ بھارت مکمل طور پر دوطرفہ تجارت پر پابندی کا متحمل ہوسکتا ہے کیونکہ ان کی مصنوعات کے معیار اور صارف کے حصول کے اعتبار سے بڑی طلب ہے۔کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے مسعود نقی، غضنفر علی خان اور عمر رحمٰن سمیت دیگر عہدیداران نے بھی ہندو انتہا پسندوں کے رویے کی مذمت کی اور سفارتی حلقوں کے ذریعے بین الاقوامی فورمز پر معاملات کو اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…