منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی آبی جارحیت کا توڑ۔۔سابق صدرآصف علی زرداری حیران کن منصوبہ سامنے لے آئے

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک)ہندوستان ہمارے دوستوں کو گمراہ کررہا ہے‘ بنیا ہمیں پانی بند کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا بلوچستان کے علاقے جعفرآباد میں جلسےسے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بلوچستان کے علاقے جعفر آباد میں جلسے سے

خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کا مستقبل نہایت تابناک ہے ، اس نے بہت ترقی دیکھنی ہے۔ بلوچستان اور آپ کا ملک سونا ہے۔سی پیک سے متعلق کچھ لوگوں کو غلطی فہمی تھی‘پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کے لیے بنایا گیا ہے۔انہوں نے بلوچ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے‘ بنیا ہمیں کہتا ہے کہ پانی بند کردوں گا۔ بھارت نے کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کی ہوئی ہے۔ پہاڑوں پر جانے والوں سے پوچھیں کہ کس کا نقصان ہوا؟ ان کے پہاڑوں پر جانے سے ہمارے بیٹے ‘ بھائی بھتیجے اور بھانجے مارے گئے۔سابق صدرکا کہنا تھا کہ بلوچستان کی زمین پاکستان میں سب سے زیادہ زرخیز ہے، یہاں صرف پانی کے درست استعمال کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کی نہروں کو پختہ کریں گے، کچی کینال نہیں چلے گی۔آصف علی زرداری نے یہ بھی کہا کہ دوست پوچھتے ہیں بلوچستان میں زراعت کے لیے پانی کہاں سے آئے گا‘ میں کہتا ہوں کہ آپ میرا ساتھ دیں ‘ پانی وسطی ایشیا سے میں لے کر آؤں گا۔آصف زرداری کا کہنا تھاکہ میں وزیراعظم بنتا تو اٹھارویں ترمیم کیسے ہوتی‘ میں نے اپنی طاقت اور اختیارات از خود پارلیمنٹ کے حوالے کیے‘ آج مجھے آپ کی دوستی اور تعاون کی ضرورت ہے‘ آپ کے بغیر میں کچھ بھی نہیں ہوں۔بلوچستان کو حقوق اس لئے نہیں دیئے تھے کہ ایک خاندان امیرہوجائے۔ آپ اپنی بے وقوفیوں سے ان حالات کو پہنچے ہیںانہوں نے موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج چین کے علاوہ کوئی ملک پاکستان آنے کو تیار نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…