منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

یورپ میں سنہرے مستقبل کے خواب موت کی وجہ بن گئے،لرزہ خیز واقعہ

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

حافظ آباد(آئی این پی )یورپ میں سنہرے مستقبل کے خواب موت کی وجہ بن گئے،روزگار کے لئے ترکی جانے والے حافظ آباد کے نوجوان کو مبینہ طور پر ایجنٹوں نے تشدد اور زہر دیکر جان سے مار ڈالا۔مقتول چھ ماہ سے روزگار کے سلسلہ میں ترکی میں مقیم تھا۔بیٹے کے انتقال کی خبر گھر پہنچنے پر کہرام برپا ہو گیا،مقتول عثمان کی والدہ، بہنیں اور دیگر رشتہ دار دھاڑیں مار مار کر روتے رہے ۔ چند ماہ قبل بھی حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے چار نوجوان ترکی میں کشتی الٹنے اور فورسزکی فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے تھے ۔

حکومت ایسے درندہ صفت ایجنٹ مافیا کو کیفر کردار تک پہنچائے ۔تفصیلات کے مطابق بہتر روزگار اور روشن مستقبل کے سہانے خواب لئے ایک اور نوجوان ایجنٹ مافیا کے مبینہ طور پر انسانیت سوز سلوک کی بھینٹ چڑھا گیا۔حافظ آباد کے علاقہ توحید نگر کے رہائشی سیف اللہ کا بائیس سال بیٹا عثمان حسن چھ ما ہ قبل ایجنٹ مافیا کے زریعے ترکی گیا ،عثمان کے والد کا کہنا ہے کہ ایجنٹوں نے پہلے ان سے ایک لاکھ اسی ہزار روپے لئے اور پھر مزید چار لاکھ روپے بھی وصول کیے،،،ایجنٹ اس سے چھ ماہ تک کام کرواتے رہے لیکن اسے ایک پیسہ بھی تنخواہ نہیں دی،،، ترکی میں مقیم ایجنٹوں نے اکمل،عرفان،گلزار اور کاظم وغیرہ نے مزید رقم نہ دینے پر عثمان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اسے زہر دے دیا جس سے وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ انکا کہنا تھا کہ سنگدل ایجنٹ جب عثمان کو تشدد کا نشانہ بناتے تو ہمیں فون کرتے جس سے ہمیں اپنے بیٹے کی چیخیں سناتے ۔عثمان کی والدہ ،بہن اور بھائی کا کہناتھا کہ انہیں تو یہ امید تھی کی عثمان کے بر سر روزگار ہونے سے انکے حالات بہتر ہو جائینگے لیکن کیا پتا کہ عثمان سے ایجنٹ اتنا انسانیت سوز سلوک کرینگے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے ظالم ایجنٹ مافیا کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے ۔عثمان کی ہلاکت کی خبر جب انکے گھر پہنچی تو وہاں کہرام برپا ہو گیا،،،عزیز،رشتہ دار دھاڑیں مار مار کر روتے رہے،،

،،غم سے نڈھال عثمان کی والدہ اور دادی بین کرتی رہیں۔روزگار کے لئے ترکی اور یونان جانے والے کئی نوجوان اپنی قیمتی جانیں ضائع کرچکے ہیں ،،چند ماہ قبل بھی حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے چار نوجوان ترکی میں کشتی الٹنے اور فورسزکی فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے تھے ۔روزگار کا جھانسہ دیکر غریب سادہ لوح عوام کو لوٹنے والے ایجنٹ مافیا کے خلاف کاروائی کرنا تو حکومت کا فرض ہے تو وہیں پاکستان میں نوجوانوں کو بہتر روزگار کی فراہمی بھی حکومت ہی کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔تاکہ آئندہ کسی کا لخت جگر روشن مستقل کے خواب لیے اس دنیا سے نہ رخصت ہو جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…