پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

امریکیوں کوشمسی ائر بیس کا استعمال،ویزوں کا اجرا،اصل کردار کون تھا؟یوسف رضاگیلانی نے خودکوبچانے کیلئے بہت کچھ کہہ ڈالا

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

ملتان (آئی این پی ) پیپلزپار ٹی کے مرکزی رہنما اورسابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ میں نے کوئی خط لکھا تو وہ قانون کے مطابق ہوگا،پاکستان میں روز ہی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے بلاوجہ ایشو بنایا جارہا ہے،ایشو بنانے والوں کو پیپلزپارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا خوف ہے،سفیر کو اختیار دینے کا مقصد یہ نہیں وہ قانونی تقاضوں کو نظرانداز کردے،امریکی شہریوں کو ضابطے کے تحت ویزا کے اجراء کی ہدایت کی،

سفیر کو اختیارات دینے کا مقصد سفارتخانے کو پاور فل کرنا ہے،امریکہ کو شمسی ائر بیس استعمال کرنے کی اجازت مشرف نے دی،بطور وزیراعظم کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔جمعہ کو ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ویزے کیلئے سفیر کو اختیارات دینے کا مقصد یہ نہیں وہ قانونی تقاضوں کو نظرانداز کردے،سفیر ایجنسیز اور عملے کو نظرانداز کرکے ویزے جاری نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ بلاوجہ معاملے کا ایشو بنایا جارہا ہے،خط بائی ہینڈ نہیں دیا ہوگا،وزارت کے ذریعے دیا گیا ہوگا،حسین حقانی کا بیان آیا ویزے ایجنسیز کی کلیئرنس کے بعد دیئے گئے،ایبٹ آباد کمیشن کرنے والے اہلکار ویزوں پر نہیں آئے تھے۔یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ امریکہ کو شمسی ائیربیس استعمال کرنے کی اجازت مشرف نے دی،امریکی شہریوں کو ضابطے کے تحت ویزے کے اجراء کی ہدایت کی،سفیر کو اختیارات دینے کا مقصد سفارتخانے کو پاور فل کرنا ہے،معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنا تھا،حسین حقانی بھی پیش ہوئے۔انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعظم کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی،وزیراعظم اختیارات قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کرتا ہے،میں نے کوئی خط لکھا ہے تو وہ قانون کے مطابق ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں روز ہی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے،بلاوجہ ایشو بنایا جارہا ہے،ایشو بنانے والوں کو پیپلزپارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا خوف ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…