اتوار‬‮ ، 26 جولائی‬‮ 2026 

پاکستان کی کس اہم شخصیت نے اسامہ بن لادن کو صدی کا سید الشہدا قرار دے دیا؟‎‎

datetime 28  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اللہ کے ولی کے مزار پر خودکش حملے ناقابل برداشت ہیں،اسامہ نہ صرف ہیرو بلکہ اس صدی کا سید الشہدا ہے۔پاکستان میں دہشتگردی کا سب سے بڑا نقصان مدارس نے برداشت کیا، اکابر علما اس دہشتگردی کی نذر ہو گئے۔ مٹھی بھر شرپسند وں کی وجہ سے سارے افغان مہاجرین کو سزا نہیں ملنی چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام (س)اور دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول میں معصوم طلبا کی شہادت افسوسناک تھی ،سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے مزار پر حملہ ناقابل برداشت ہے وہ اللہ کے ولی کے مزار ہے۔ ملک میں حالیہ دہشتگردی کی اس لہر نے مدارس کوزیادہ نقصان پہنچا، اکابر علمائے مدارس کراچی میں خودکش حملوں میں مارے گئے۔دہشتگردی اور مدارس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، پاکستان میں آج تک کوئی بھی مدرسے کا طالبعلم یا کوئی افغان دہشتگردی واقعہ میں نہیں پکڑا گیا۔ پاکستان دشمن سادہ لوح افراد کو بہکا کر ملک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے افغان حکومت اور صدر اشرف غنی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں اور وہاں پاکستان دشمن عناصر کو پناہ نہ دیں۔ اسامہ بن لادن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اسامہ کوآج بھی ہیرو سمجھتے ہیں بلکہ وہ اس صدی کے سید الشہدا ہیں۔بینظیر بھٹو کے قتل میں جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کا نام لئے جانے کے حوالے سے مولانا سمیع الحق نے کہا کہمدرسے کے ہاسٹل میں ہزاروں طلبہ رہائش پذیر ہیں اور اگر کسی کا کوئی مہمان آتا ہے اور وہ بعد میں کسی واقعہ میں ملوث ہو تو اس کی ذمہ داری مدرسہ پر نہیں ڈالی

جا سکتی۔ہم بینظیر بھٹو جیسی مدبر،پڑھی لکھی سیاستدان کو قتل کرنے یا اس میں ساتھ دینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ دفاع پاکستان کونسل میں موجودجن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہےانہوں نے وطن عزیز کیلئے قربانیاں دی ہیں۔حافظ سعید کو عدالت سے کلیئر ہونے کے باوجود امریکی اور بھارتی دبائو پر نظر بند کیا جاتا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (س)کے سربراہ نے بتایا کہ ان سے افغان مہاجرین کے وفد نے ملاقات میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں دہشتگردانہ کارروائیوں کی مذمت کی گئی ہے اور افغان مہاجرین کے وفد نے دعویٰ کیا ہے کہ

کوئی بھی افغان مہاجر دہشتگردی میں ملوث نہیں، مولانا سمیع الحق نے کہا کہ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی ہونی چاہئے اور اگر کوئی مٹھی بھر شرپسند ہیں تو اس کی سزا باقی افغان مہاجرین کو نہیں دینی چاہئے۔افغانستان میں طالبان کے قومی دھارے میں شامل ہونے سے متعلق سوال پر سربراہ دفاع پاکستان کونسل کا کہنا تھا کہ طالبان سمجھتے ہیں کہجب تک غیر ملکی افواج افغانستان میں موجود ہیں تب تک وہ اس عمل میں شامل نہیں ہو سکتے۔عمران خان اور فضل الرحمن سے متعلق سوالات پر مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وہ عمران خان کو یہودی ایجنٹ نہیں سمجھتے بلکہ مولانا فضل الرحمن ان لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں جو یہودی ایجنٹوں کی ایجنٹوں سے زیادہ ایجنٹی کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…