جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

شریف برادران کے وفد کی طاہرالقادری سے ملاقات،حیرت انگیزانکشافات

datetime 7  فروری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے حوالے سے ہمارا بنیادی موقف اور مطالبہ سانحہ کے مرکزی ملزمان شریف برادران کو طلب کرنا ہے جو نہیں کیا گیا تاہم ان کی طلبی کے لیے اپنا قانونی حق استعمال کریں گے۔ بکروں کا صدقہ نہیں چلے گا امید ہے پولیس والے صولت مرزا کی طرح بے وقت نہیں بولیں گے، انہیں انصاف حاصل کرنے کے لیے بروقت بولنا ہو گا۔ وکلاء سے بریفنگ لینے کے بعد فیصلے پر تفصیلی بات کروں گا ۔

انہوں نے مرکزی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے ٹی سی نے آئی جی سے لے کر سانحہ میں ملوث کانسٹیبل تک کو طلب کر لیا مگر غیر قانونی حکم دینے والے حکمرانوں کو طلب نہیں کیا گیا ۔ حکمرانوں کے غیر قانونی احکامات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے لیے یہ کھلا پیغام ہے کہ شریف برادران نے انہیں اپنے سیاسی مفاد کیلئے استعمال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے غیر قانونی احکامات پر عمل کرنے والے اب بے گناہوں کو قتل کرنے کی سزا بھگتیں گے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ پولیس افسران پورا سچ بول دیں اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کے بارے میں قانون اور عوام کو آگاہ کر دیں ورنہ شریف برادران پھانسی کے پھندے پولیس والوں کے گلے میں فٹ کروانے کے حوالے سے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی یہ کہا کہ شریف برادران کے بھیجے گئے نمائندے جن میں وزراء بھی شامل تھے اور ان کے خاندان کے افراد بھی شامل تھے، انہوں نے صرف اور صرف شریف برادران کی معافی، تلافی کے لیے درخواست کی، کسی موقع پر بھی انہوں نے سانحہ میں ملوث پولیس افسران یا اہلکاروں کو معافی دینے کی بات نہیں کی۔ اس لیے ہم پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ شریف برادران بکروں کی قربانی پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن ہم بکروں کی قربانی پر اکتفا نہیں کریں گے جب تک بکروں کی ماں کٹہرے میں نہیں آئے گی

انہوں نے کہا کہاس وقت تک قانونی، سیاسی جدوجہد جاری رہے گی اور قاتل حکمران سن لیں انصاف کے دروازے مکمل طور پر بند ہوتے ہوئے دکھائی دئیے تو پھر قصاص تحریک کے دوسرے راؤنڈ کا اعلان ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب طلب کیے جانے والے ملزمان میں سے کئی بیمار ہوں گے، کئی فرار ہوں گے، کسی کو سٹنٹ پڑیں گے اور کوئی بچنے کیلئے ’’سٹنٹ‘‘ کرے گا

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…