ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

’’مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال ‘‘ خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کیلئے سعودی عرب نے بڑے اقدامات اٹھا لیے

datetime 24  جنوری‬‮  2017 |

ریاض(آئی این پی)سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ان کا ملک جدید ترین دفاعی صلاحیتوں سے بھرپور طریقے سے استفادہ کر رہا ہے، سعودی حکومت نے دفاع وطن کے لیے جدید ترین جنگی طیارے بھی حاصل کرلیے ہیں۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق اپنے ایک بیان میںوزیر دفاع و نائب ولی عہد نے کہا

کہ وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت اور قوم کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور مقام مقدسات کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے ۔ سعودی عرب کو اپنے دفاع کے لیے درکار فوجی اور دفاعی صلاحیتوں سے بھرپور طریقے سے فایدہ اٹھایا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ اعلان اور اقدامات مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے بعد دیکھنے میں آئے ہیں ۔ اس ضمن میں سعودی عرب نے دنیا بھر میں دفاع کے لیے استعمال ہونے والے جدید ترین جنگی طیارے بھی حاصل کیے ہیں اور انہیں اڑانے کے لیے ہوابازوں اور ان کے معاونین کی تربیت کا عمل بھی جاری ہے۔نائب ولی عہد نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا تمام مسلح افواج کے کمانڈران چیف کی حیثیت سے شاہ فیصل ملٹری کالج کے 50 ویں یوم تاسیس کے موقع پر بدھ کے روز پاسنگ آٹ تقریب کی سرپرستی کرنے پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار شاہ فیصل ملٹری اکیڈمی سے 91 اسکاٹس کا گروپ سند فراغت حاصل کرے گا۔ اس کے علاوہ اس موقع پر نئے جنگی طیارے F15-SA کا افتتاح بھی اسی تقریب میں ہوگا۔

اس موقع پر اس طیارے کو سعوی فضائی بیڑے میں شامل کیا جائے گا۔نائب ولی عہد نے بتایا کہ دفاع وطن اورمقدس مقامات کے تحفظ کے لیے جدید ترین طیارے حاصل کیے گئے ہیں۔سعودی حکومت دفاعی صلاحیتوں کی بہتری، اقتصادی ترقی اور امن و استحکام کے قیام کے لیے ہرممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ ساتھ مملکت خطے میں قیام امن کے لیے بھی اپنی خدمات بھرپور طریقے سے ادا کرے گی۔شہزادہ محمد بن سلمان نے

شاہ فیصل ملٹری اکیڈمی سے تربیت حاصل کرنے کے بعد فضائیہ میں خدمات انجام دینے والے ہوابازوں اور ملٹری کالج کی خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ شاہ فیصل ملٹری اکیڈمی نے دفاع وطن کے لیے عالمی معیار کے ہواباز تیار کیے جنہوں نے فضائی میدان میں وطن کی سرحدوں کے دفاع کے لیے گراں قیمت

خدمات انجام دیں۔خیال رہے کہ جنگی طیارہ F15-SA پہلی بار سعودی فضائی بیڑے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ سنہ 2012 میں امریکا کے ساتھ طے پائے ایک دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کو F15-SA ماڈل کے 84 جنگی طیارے فراہم کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جدید ترین دفاعی صلاحیت کے اعتبار سے یہ جہاز عالمی سطح پرایک خاص پہچان رکھتا ہے۔ اس طیارے سے روایتی اور اسمارٹ ہتھیاروں کا استعمال ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…