بلاول کے مطالبات نہ مانے تو رو پڑے گا اور۔۔۔! عمران خان نے ’’جیالوں‘‘کا پارہ ہائی کردیا

  جمعہ‬‮ 30 دسمبر‬‮ 2016  |  22:05

کراچی(آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے سوچا تھا 27 دسمبر کو پتہ نہیں کیا ہو گا‘ بلاول کی تقریر کا مفہوم تھا مطالبات نہ مانے تو رو پڑوں گا ‘ سڑکوں پر نہ نکلتے تو پانامہ کا معاملہ مر چکا ہوتا ‘ نواز شریف اور فضل الرحمن ایک دوسرے کو بچاتے ہیں ‘ اسمبلیوں میں قبضہ گروپ بھرے پڑے ہیں ‘ پنجاب میں ہماری ساری قیادت پر مقدمات ہیں ‘ تبدیلی سڑکیں نہیں ادارے بنانے سے آتی ہے ‘ نواز شریف کو قطری شہزادے کا خط نہیں بچا سکتا‘پانامہ سیاست کا نہیں پاکستان کے مستقبل کا معاملہ ہے۔

وہ جمعہ کو یہاں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہاکہ بیلٹ باکس کے ذریعے انقلاب کی کوشش کر رہے ہیں اب بھی سب سے پڑھا لکھا مسلمان پاکستانی ہے۔ اس ملک میں انتہاء کے مسائل ہیں۔ خیبر پختونخوا میں زمین کھودیں تو گیس نکلتی ہے۔ سمندر پار پاکستانی کرپشن کے باعث سرمایہ نہیں لگاتے۔ سمندر پار پاکستانیوں کو کیس کی دھمکیاں دیتے ہیں ۔ عمرا ن خان نے کہا کہ اسمبلیوں میں قبضہ مافیا بھرے پڑے ہیں۔ ہمارے جیسے حالات سے کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انتخابات لڑنے کیلئے آسٹریلیا سے تو لوگ نہیں لا سکتا۔ سیاست میں حصہ لینا ہے تو آگے آئیں گھر بیٹھ کر تنقید نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا نمائندہ کہتا ہے لوگ پانامہ کو بھول جائیں گے۔ سڑک پر نہ نکلتے تو پانامہ کا معاملہ مر چکا ہوتا۔

انہوں نے کہاکہ بلاول نے حکومت کو اپنے 4 مطالبات ماننے کا کہا تھا ہم نے سوچا شاید 27 دسمبر کو پتہ نہیں کیا ہو گا ۔ بلاول کی تقریر کا مفہوم تھا مطالبات نہ مانے تو رو پڑوں گا۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کسی مخالف پر ایف آئی آر نہیں پنجاب میں ہماری ساری قیادت پر مقدمات ہیں۔ پانامہ پر پیپلز پارٹی کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اس لئے اور کچھ نہیں کہوں گا۔ عمران خان نے کہا کہ کرپشن ملک کو تباہ کر دیتی ہے۔ نواز شریف اور فضل ال رحمن ایک دوسرے کو بچاتے ہیں۔ نجم سیٹھی نے انتخابی دھاندلی میں مدد کی۔ نجم سیٹھی کی وجہ سے قومی ٹیم کا آج برا حال ہے۔ انہوں نے کہاکہ تبدیلی سڑکیں نہیں ادارے بنانے سے آتی ہے۔ اداروں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ لوکل گورنمنٹ سسٹم پورے ملک میں ہونا چاہیے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مراکو میں چند دن

مراکو میں تمام نمازیں دو بار ہوتی ہیں‘ امام صاحب ایک جماعت کے بعد محراب خالی کر دیتے ہیں اور دوسرے امام صاحب آگے بڑھ کر دوسری جماعت شروع کر دیتے ہیں اور جوں ہی یہ نماز مکمل ہوتی ہے انتظامیہ مرکزی دروازے کو تالہ لگا کر مسجد بند کردیتی ہے اور یہ تالہ پھر اگلی نماز کے وقت کھلتا ....مزید پڑھئے‎

مراکو میں تمام نمازیں دو بار ہوتی ہیں‘ امام صاحب ایک جماعت کے بعد محراب خالی کر دیتے ہیں اور دوسرے امام صاحب آگے بڑھ کر دوسری جماعت شروع کر دیتے ہیں اور جوں ہی یہ نماز مکمل ہوتی ہے انتظامیہ مرکزی دروازے کو تالہ لگا کر مسجد بند کردیتی ہے اور یہ تالہ پھر اگلی نماز کے وقت کھلتا ....مزید پڑھئے‎