پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

حاضر سروس جج کے گھرپر10 سالہ ملازمہ پربہیمانہ تشدد

datetime 30  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں 10 سالہ گھریلو ملازمہ بچی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا دیا گیا ہے اوراس کی آنکھوں میں گرم چائے ڈالی گئی اور آگ سے دونوں ہاتھ جلا دیئے گئے۔ ایک نجی ٹی و ی کے مطابق حاضر سروس جج کے گھر میں معمولی سی بات پر ملازمہ بچی کی آنکھوں میں گرم چائے ڈال دی گئی اور دونوں ہاتھ بھی جلا دیئےگئے۔

پولیس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے حکم پر ایڈیشنل سیشن جج کیخلاف گھریلو ملازمہ پر تشدد کے الزامات کی انکوائری شروع کر دی ہے۔کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ دختر محمد اعظم نے مجسٹریٹ کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ بچی اپنے گھر کا پتہ نہیں جانتی تھی، پولیس نے کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج اور اہلیہ کیخلاف تھانہ انڈسٹریل ایریا میں درج کیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انورکاسی نے اس المناک معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار کو ہدایت کی ہے کہ دو روز میں معاملہ کی تحقیقات مکمل کریں،جس کے بعد رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاملے کی انکوائری کا آغاز کرتے ہوئے متعلقہ ایڈیشنل سیشن جج کو طلب کر لیا ہے۔‎اس سے قبل خفیہ اطلاع پر پولیس نے شدید زخمی حالت میں کم سن طیبہ کوایڈیشنل سیشن جج خرم علی خان کے گھر سے برآمد کر لیا ہے۔ تھانہ آئی نائن پولیس نےملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج کر لیا،،مقدمہ اے ایس آئی شکیل بٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔دس سالہ بچی کو سیشن جج خرم گھر میں کام کرنے کے لئے لے کر آئے،ایف آئی آر کے مطابق دو سال سے مالکان طیبہ کو مارتے اور گھر والوں کو بھی ڈراتے دھمکاتے آ رہے تھے،دوسری جانب چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی معاملے کا نوٹس لے لیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…