جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

نیب نے پیپلز پارٹی دور کے ہیلی کاپٹرزخریداری اسکینڈل کی تحقیقات مکمل کرلیں،تفصیلات جاری

datetime 14  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کیلئے 3 ہیلی کاپٹروں کی خریداری اسکینڈل کی تحقیقات 22 سال بعد مکمل کرلیں۔نجی ٹی وی کے مطابق موصول ہونے والی نیب انویسٹی گیشن رپورٹ میں بتایاگیا کہ 1994 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آئی بی کیلئے 3 ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا آرڈر دیا گیا تھا جن کی خریداری کیلئے 21 لاکھ ڈالر لندن کے بینک میں ٹرانسفر کیے گئے مگر آج تک ہیلی کاپٹر پاکستان نہ پہنچ سکے اور نہ ہی قومی خزانے کی رقم واپس کی گئی۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 1994 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس وقت کی کابینہ ڈویژن نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کیلئے تین ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا ٹینڈر جاری کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کے وزیر ملک اللہ یار نے کابینہ ڈویژن پر دباؤ ڈال کر اپنے داماد ضیاء حسن پرویز کی ڈنمارک میں رجسٹرڈ کمپنی کش ہیون کو کنٹریکٹ دلوایا حالانکہ اس کمپنی کی بولی سب سے کم بھی نہ تھی۔پاکستان کے نجی بینک کے اعتراضات کے باوجود کابینہ ڈویژن کے دباو پر مذکورہ کمپنی کو 21 لاکھ ڈالر 1994 میں لندن میں ٹرانسفر کردئیے گئے جس کے بعد کابینہ ڈویژن کو آگاہ کیا گیا کہ ستمبر 1994 میں ہیلی کاپٹر پاکستان پہنچ جائیں گے مگر آج تک ہیلی کاپٹر پاکستان نہ پہنچ سکے اور نہ ہی 21 لاکھ ڈالر واپس کیے گئے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ایف آئی اے نے 1998 میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا بعد ازاں 2000 میں یہ کیس نیب کو ٹرانسفر کردیا گیاتاہم ہیلی کاپٹروں کی خریداری اسکینڈل کے مرکزی ملزم ملک اللہ یار کی 2000 میں وفات کے باعث نیب نے 2004 میں یہ کیس بند کردیارپورٹ کے مطابق 2015 میں نیب راولپنڈی نے ایک مرتبہ پھر قومی دولت کی وصولی کیلئے اس کیس کی تحقیقات شروع کیں، ملزم کا نام ای سی ایل میں شامل کرکے ثبوت اکٹھے کرنے کا آغاز کیا۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نیب نے سابق سیکرٹری کابینہ ڈویژن ہمایوں فیض، ڈپٹی سیکرٹری کابینہ ڈویڑن شکیل خان، عبدالشفیق خان، لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ واحد خان اور ضیاء پرویز حسن پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے احتساب عدالت سے ملزمان کو سزا اور قومی خزانے کی لوٹی گئی رقم وصول کرنے کی استدعا کردی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…