پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

تباہ ہونیوالے طیارے میں کس کمپنی کے انجن نصب تھے؟قابل بھروسہ تھے یا نہیں؟تفصیلات جاری

datetime 11  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)پی آئی اے ترجمان نے ان میڈیا اطلاعات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۔ATR۔42 & 72 طیاروں میں دنیا کی معروف طیارہ انجن ساز کمپنیPratt & Whitneyکے انجن استعمال کئے جاتے ہیں جو کہ دنیا بھر میں قابل بھروسہ مانے جاتے ہیں۔اس وقت مختلف نوعیت کے 12 سو سے زائدATR طیارے بنائے جا چکے ہیں اور دنیا کی مختلف ائر لائن ان کو اپنی پروازوں کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔
یہ کمپنی1925 سے اب تک دنیا کی مشہورکمرشل طیارہ ساز کمپنیوں جن میں بوئنگ اور ائر بس شامل ہیں کو تیرہ ہزار سے زائد انجن فراہم کر چکی ہے۔ اسکے علاوہ یہ کمپنی ملٹری طیاروں کوبھی سات ہزار سے زائد انجن فروخت کر چکی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ حادثہ کا شکار ہونے والے طیارے کے انجن میں پہلے سے کسی قسم کی خرابی تھی اور کہا ہے کہ اس مرحلے پر یہ تاثر دینا کہ ایک انجن کا پنکھا اْلٹا چل رہا تھا جو حادثے کا باعث بنا قبل از وقت ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ اس قسم کی قیاس آرائیوں سے عوام غلط نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔

درحقیقت چترال سے ٹیک آف کے وقت طیارے کے دونوں انجن بالکل ٹھیک کام کر رہے تھے لیکن دوران پرواز کوئی مسئلہ ہواجو حادثے کا باعث بنا۔اس حادثے کی مکمل تحقیقات ایک خود مختار ادارہ سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ کر رہا ہے جو ایوی ایشن ڈویڑن کے ماتحت ہے۔جائے حادثہ سے ملنے والی تمام اشیاء بشمول کاک پٹ آلات تحقیقات میں اہم معلومات فراہم کر سکتے ہیں لیکن صرف چندکی بنیاد پر حتمی رائے قائم کرلینا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ کو وزیر اعظم کی جانب سے واضح ہدایات ہیں کہ تحقیقات کا عمل شفاف ، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ہو اور سچ جلد از جلد عوام کے سامنے لایا جائے۔ترجمان پی آئی اے نے میڈیا سے درخواست کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک اس کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…