ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

1988ء میں لاپتہ طیارے کا کیا ہوا؟حادثات کی اصل وجہ کیا ہے؟ ائیر وائس مارشل عابد راؤ کے انکشافات

datetime 8  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)ایئر وائس مارشل (ر) عابد راؤ نے کہا ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور خاص طور پر چترال ایک ایسا علاقہ ہے ٗجہاں کسی بھی جہاز کیلئے پرواز کرنا ایک مشکل ترین عمل ہوتا ہے۔ایک انٹرویو میں ریٹائرڈ ایئروائس مارشل عابد راؤ نے کہا کہ اگرچہ اے ٹی آر طیاروں کا ریکارڈ اچھا رہا ہے تاہم جس مقام پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا طیارہ گر کر تباہ ہوا وہاں کوئی بھی جہاز انجن فیل ہونے کی صورت میں توازن برقرار نہیں رکھ پاتا۔انھوں نے کہا کہ ایک بنیادی وجہ تو ایئرپورٹس پر رن وے کی لمبائی کم ہونا ہے ٗاس وقت صرف اسکردو کا رن وے چترال اور گلگت سے بڑا ہے لہذا صرف ان ہی جہازوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جو اس طرح کے رن ویز پر لینڈ کرنے کے قابل ہوں۔

انہوں نے کہاکہ دوسری وجہ وہاں پہاڑیاں ہیں، لہذا اس بات کا تعین کرنا بہت ضروری ہے کہ اگر جہاز کے ایک انجن میں خرابی آجائے تو کیا دوسرے انجن کی مدد سے طیارہ ان رکاوٹوں عبور کرسکتا ہے یا نہیں۔تیسری وجہ بتاتے ہوئے عابد راؤ کانے کہا کہ اس علاقے تک رسائی بہت مشکل ہے اور اگر کوئی حادثہ ہوجاتا ہے تو زخمیوں تک بھی بروقت پہنچنا بظاہر ناممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی بھی اس علاقے میں فضائی حادثات ہوتے رہے ہیں، 1988ء میں پی آئی اے کا ہی ایک فوکر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا جس کا آج تک کچھ پتہ نہیں چل سکتا۔اس سوال پر کہ اس طرح کے حادثات میں انسانی غلطی کا عنصر کس حد تک پایا جاتا ہے؟ ایئر وائس مارشل عابد راؤ نے کہاکہ اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو 85 فیصد واقعات انسانی غلطی کی ہی وجہ سے پیش آتے ہیں ٗ15 فیصد حادثات ایسے ہیں جو قدرتی طور پر رونما ہوتے ہیں جس کی وجہ موسم کی خرابی بھی ہوسکتی ہے تاہم عابد راؤ نے کہا کہ زیادہ تر واقعات میں انسانی غفلت ہی بنیادی وجہ ہوتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…