جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

تباہ ہونیوالے طیارے میں سوارمسافروں کے نام،اہم شخصیات بھی شامل

datetime 7  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پرواز پی کے 661کیپٹن خالد جنجوعہ تھے،عملے میں فرسٹ افسرعلی اکرم،ٹرینی پائلٹ احمد جنجوعہ تھے،ائیرہوسٹس صدف فاروق اور ہوسٹس اسماء عادل بھی عملے میں شامل ہیں۔حویلیاں سے

10کلومیٹر دور گاؤں میں طیارہ پہاڑ ی سے ٹکرانے کے بعد کھائی میں گرا،گرنے کے فوراً بعد طیارے میں آگ لگ گئی،حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں سوار مسافروں کے نام قیصر عابد،احترام اللہ،عائشہ،علی

اکبر،محمود اختر،شوکت عامر،آمنہ احمد،محمد عتیق،فرح ناز،فرحت عزیز،علی حسن،جنید خان،عاطف محمود،گل مرزا،علی محمد،خان محمد،عرش تیمور،عمارہ خان،زاہد ہ پروین شامل ہیں۔حادثے کے شکار طیارے میں جنید

جمشیدبھی اپنی اہلیہ کے ہمراہ سوا تھے ۔معروف شخصیت جنید جمشید تبلیغ کے سلسلے میں چترال گئے ہوئے تھے،جبکہ ڈی سی چترال اسامہ وڑائچ بھی طیارے میں سوار تھے۔طیارے میں سوار عملے کا تعلق راولپنڈی

سے تھا۔پی آئی اے نے فوری طور پر ایمرجنسی سنٹر قائم کردیا ہے۔ریسکیو آپریشن کیلئے پاک فوج کے دستے اور ہیلی کاپٹر بھی فوری طور پر پہنچ گئے ۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے متعلقہ افراد کو فوری طور پر

جائے وقوعہ پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ فوری طور پر ریسکیوریلیف آپریشن شروع کیا جائے۔وزارت داخلہ کے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کردیا گیا۔وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ہدایت کی کہ وفاقی ادارے صوبائی حکومت اور انتظامیہ کو مدد فراہم کریں۔‎

پی آئی اے کے طیارے کے پائلٹ کا آخری پیغام،تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد (نیوزڈیسک)پی آئی اے کے طیارے کے پائلٹ کا آخری پیغام،تفصیلات سامنے آگئیں، پی آئی اے کے

چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے گر کرتباہ ہونے والے طیارے کے پائلٹ کی جانب سے کنٹرول ٹاور کو بھیجے جانے والے آخری پیغام کی تفصیلات سامنے آگئیں۔بدھ کو سول ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارے کے ساتھ

آخری رابطہ حویلیاں کے قریب ہوا جس دوران پائلٹ کی جانب سے’’مے ڈے‘‘ کال دی گئی اور پیغام بھیجا گیا کہ طیارے کے نجن میں خرابی پیدا ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق کسی بھی طیارے کے پائلٹ کی جانب سے

’’مے ڈے‘‘ کال دینے کا مطلب ہوتا ہے کہ طیارہ انتہائی سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔ ذرائع کے مطابق کنٹرول ٹاور کو پائلٹ کا پیغام ملنے کے کچھ ہی دیر بعد طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا اور ریڈار سے بھی غائب ہو گیا۔چترال سے اسلام آباد آنے والے پی کے 661 کو کیپٹن صالح یار جنجوعہ اور کو پائلٹ احمد جنجوعہ آپریٹ کر رہے تھے جبکہ ایک ٹرینی پائلٹ بھی سوار تھے۔ ‎

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…